شاعری

موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیں

موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیں شہر میں اور گل اندام ابھی باقی ہیں اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میں پیچ اے زلف سیہ فام ابھی باقی ہیں اک سبو اور کہ لوح دل مے نوشاں پر کچھ نقوش سحر و شام ابھی باقی ہیں ٹھہر اے باد سحر اس گل نورستہ کے نام اور بھی شوق کے پیغام ابھی باقی ہیں اٹھو ...

مزید پڑھیے

اے اہل نظر سوز ہمیں ساز ہمیں ہیں

اے اہل نظر سوز ہمیں ساز ہمیں ہیں عالم میں پس پردۂ پرواز ہمیں ہیں اے جبر مشیت بہ ہمہ بے پر و بالی اب بھی ہے جنہیں ہمت پرواز ہمیں ہیں خوش ہیں کہ نہیں اس ستم آرا کا ستم عام نازاں ہیں کہ اس کے ہدف ناز ہمیں ہیں وہ انجمن‌ ناز بتاں ہو کہ سر دار جس سمت سے گزرے ہیں سرافراز ہمیں ...

مزید پڑھیے

اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں

اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں اس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں ڈھونڈیں کہاں سحر کو تمہیں اے غزال شب اب نام بھی تو یاد تمہارا نہیں ہمیں اب کیا سنور سکیں گے ہم آوارگان عشق صدیوں کے جبر نے تو سنوارا نہیں ہمیں ہاتھوں میں ہے ہمارے گریبان کائنات لیکن ابھی جنوں کا اشارا نہیں ...

مزید پڑھیے

شاید رخ حیات سے سرکے نقاب اور

شاید رخ حیات سے سرکے نقاب اور بھر دو مرے سبو میں شراب گلاب اور ہوگی مرے سبو سے نمود ہزار صبح ابھریں گے اس افق سے ابھی آفتاب اور آتی ہے کوئے دار و رسن سے صدا ہنوز آئے ادھر جو ہے کوئی خانہ خراب اور مخمور بوئے زلف نہ آئیں گے ہوش میں چھڑکے ابھی نسیم بہاراں گلاب اور اے وارثان سطوت ...

مزید پڑھیے

ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہے

ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہے میزان دلبری پہ انہیں تولتے رہے عکس جمال یار بھی کیا تھا کہ دیر تک آئینے قمریوں کی طرح بولتے رہے کیا کیا تھا حل مسئلۂ زندگی میں لطف جیسے کسی کا بند قبا کھولتے رہے پوچھو نہ کچھ کہ ہم سے غزالان بزم شب کس شہر دلبری کی زباں بولتے رہے کل شب تھا ذکر ...

مزید پڑھیے

عشق کو کائنات کا مقصد و مدعا سمجھ

عشق کو کائنات کا مقصد و مدعا سمجھ پھر ترا ظرف ہے اسے درد سمجھ دوا سمجھ راہ وفا میں مجھ کو حکم یہ ہے کہ اپنے آپ کو اٹھ تو غبار کر خیال بیٹھ تو نقش پا سمجھ میں جو حریم ناز میں شمع صفت خموش ہوں اس کو بھی اے نگاہ لطف کوشش التجا سمجھ اے دل بیقرار دوست دور ہے منزل وفا جا تجھے شوق دے خدا ...

مزید پڑھیے

اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میں

اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میں پیچ اے زلف سیہ فام ابھی باقی ہیں اک سبو اور کہ لوح دل مے نوشاں پر کچھ نقوش سحر و شام ابھی باقی ہیں ٹھہر اے باد سحر اس گل نورستہ کے نام اور بھی شوق کے پیغام ابھی باقی ہیں اے حریفان سبو گوش بر آواز رہو دامن وحی میں الہام ابھی باقی ہیں طول کھینچ ...

مزید پڑھیے

ہم دل زہرہ وشاں میں خالق اندیشہ ہیں

ہم دل زہرہ وشاں میں خالق اندیشہ ہیں گو خراباتی سہی جبریل کے ہم پیشہ ہیں پیرویٔ واعظان شہر میں بزدل ہیں ہم اور غزالوں کا تعاقب ہو تو شیر بیشہ ہیں جانیے کیا کیا مدارج اور بھی کرنے ہیں طے ہم ابھی ذہن‌ خدا وندی میں اک اندیشہ ہیں خشت و سنگ نا تراشیدہ سے ابھرا خد حسن مے گساروں کی ...

مزید پڑھیے

سب ماسوائے عشق فریب سراب ہے

سب ماسوائے عشق فریب سراب ہے میں بھی ہوں خواب میری جوانی بھی خواب ہے ہے بوئے گل کہیں کہیں رنگ شراب ہے ہر چیز میں شریک کسی کا شباب ہے میری نظر سوال ہے اور برملا سوال ان کی نظر جواب ہے اور لا جواب ہے دل کارزار عشق و وفا میں ہے پیش پیش طوفاں کے سامنے ہے اگرچہ حباب ہے شمع جمال دوست ...

مزید پڑھیے

بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرے

بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرے ہماری عمر کے دن رائیگاں نہیں گزرے ہجوم گل میں رہے ہم ہزار دست دراز صبا نفس تھے کسی پر گراں نہیں گزرے نمود ان کی بھی دور سبو میں تھی کل رات ابھی جو دور تہ آسماں نہیں گزرے نقوش پا سے ہمارے اگے ہیں لالہ و گل رہ بہار سے ہم بے نشاں نہیں گزرے غلط ہے ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 627 سے 5858