شاعری

سوز پرور نگاہ رکھتے ہیں

سوز پرور نگاہ رکھتے ہیں ہم نظر میں بھی آہ رکھتے ہیں اس ہجوم تجلیات میں ہم حسرت یک نگاہ رکھتے ہیں یہ تعلق جہاں سے کافی ہے آپ سے رسم و راہ رکھتے ہیں بخش دے گا وہ بخشنے والا بس یہ عذر گناہ رکھتے ہیں ہم حجابات سے نہیں مایوس جلوہ پیش نگاہ رکھتے ہیں غم وسیلہ ہے اور تو مقصود ہم یہ ...

مزید پڑھیے

یہ نہ ہو کہ منہ ہی لٹکا چاہئے

یہ نہ ہو کہ منہ ہی لٹکا چاہئے شعر کہہ کر خود بھی ہنسنا چاہئے ہو حکومت غنڈے اپنے ساتھ ہوں کیوں نہ پھر غیروں کو سمجھا چاہئے کال بیل جو بجتے ہی دیدار ہو در سے کتا دور ان کا چاہئے کیسے جاؤں دل بدل کر اس طرف ''کچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہئے'' راس آتا ہی نہیں ہم کو سکوں شانتی کو بھنگ کرنا ...

مزید پڑھیے

ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیا

ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیا تجھ کو ہی دیکھا کئے تجھ کو اگر دیکھ لیا جیسے سر پھوڑ کے مل جائے گی زنداں سے نجات کیا جنوں نے کوئی دیوار میں در دیکھ لیا باز ہے آج تلک دیدۂ حیراں کی طرح دشت وحشت نے کسے خاک بسر دیکھ لیا جرم نظارہ کی پاتا ہے سزا دل اب تک اہل دل دیکھ لیا اہل نظر دیکھ ...

مزید پڑھیے

یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھی

یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھی چشم صد نظارہ مشکل سے اٹھی بازگشت شور غرقابی سہی کوئی تو آواز ساحل سے اٹھی قافلے ہیں کتنے درماندہ خرام گرد راہوں سے نہ منزل سے اٹھی تھام کر دل کیا اٹھے ارباب درد اک قیامت تیری محفل سے اٹھی سر سے بھی گزری ہے طوفاں کی طرح جب بھی کوئی موج خوں دل سے ...

مزید پڑھیے

باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیا

باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیا بڑھتے بڑھتے شعلہ گُل آشیاں تک آ گیا اک جہاں اس حادثہ سے بے خرب ہے اور یہاں دل میں ڈوبا نشترغم اور جاں تک آ گیا اس کے آگے اب ایر کارواں کام ہی گرتا پڑتا میں سواد کارواں تک آگیا لاکھ منزل سے ہوں آگے پھر ی اے جوش طلب مڑکے دیکھوں تو کہ میںخر کہاں ...

مزید پڑھیے

رات کا سناٹا ہو اور رازداں کوئی نہ ہو

رات کا سناٹا ہو اور رازداں کوئی نہ ہو بیویاں تنہا ہی گھومیں اور میاں کوئی نہ ہو مملکت کو فکر تعمیر مکاں کوئی نہ ہو ہوں پڑے فٹ پاتھ پہ سب آشیاں کوئی نہ ہو ہے یہی جی میں کہ ہم سب خانہ جنگی میں مریں ملک پہ مٹنے کی خاطر خانداں کوئی نہ ہو آپا دھاپی کی فضا ہو جو بھی چاہے لوٹ لے راہبر ...

مزید پڑھیے

اپنے نائی کا ہنر یاد آیا

اپنے نائی کا ہنر یاد آیا ہم نے منڈوایا تھا سر یاد آیا ریل میں لے رہی تھی خراٹے اس کے ہم راہ سفر یاد آیا جس کو کھا کے ہوئے تھے ہم بیمار وہ ہی بھیجا وہ جگر یاد آیا رات کنیا گلے لگائی تھی صبح دارو کا اثر یاد آیا پریم کے وقت غصہ بیوی کا بھولنا چاہا مگر یاد آیا جب فسادوں کی کوئی آئی ...

مزید پڑھیے

نذر احمد فرازؔ

پھر رسم زمانے کی نبھانے کے لئے آ مل کر کے گلے عید منانے کے لئے آ سر تال نئے پھر سے ملانے کے لئے آ ڈھولک پہ ذرا تھاپ لگانے کے لئے آ جو زخم جدائی کے دیئے ان پہ مری جاں سستا سا ہی مرہم تو لگانے کے لئے آ پلوں نے ترے ناک میں دم میری کیا ہے بوتل کا سہی دودھ پلانے کے لئے آ بن تیرے کہاں ...

مزید پڑھیے

اب چل پڑا ہوں آخری اپنے سفر کو میں

اب چل پڑا ہوں آخری اپنے سفر کو میں اچھا ہے سیدھا کر لوں جو اپنی کمر کو میں ہیں تعزیت کو اپنی یہ دونوں اڑے ہوئے ''حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں'' جب سے بڑھا ہے شہر میں موتوں کا سلسلہ ہم راہ اپنے رکھتا ہوں اک نوحہ گر کو میں مجھ کو ملے گا بیمے کا پیسہ نہ ایک بھی ''یہ جانتا تو ...

مزید پڑھیے

کس نے کہا ہے یہ کہ خدا سے دعا نہ مانگ

کس نے کہا ہے یہ کہ خدا سے دعا نہ مانگ لیکن بھلائی یار کی اپنا برا نہ مانگ جو جیب کاٹنی ہو تو اپنا بلیڈ رکھ نائی سے اس کے کام کا تو استرا نہ مانگ جس نے دیا ہے زہر تجھے کھیل کھیل میں ایسے ستم ظریف سے تو پھر دوا نہ مانگ نیتا ہے دل کا چاہے تو دل سے نکال دے لیکن ہمارے گھپلوں کی فرد سزا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 599 سے 5858