اب کے برس ہونٹوں سے میرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی
اب کے برس ہونٹوں سے میرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی تجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئی کیسا پیار کہاں کی الفت عشق کی بات تو جانے دو میرے لیے اب اس کے دل سے ہمدردی بھی ختم ہوئی سامنے والی بلڈنگ میں اب کام ہے بس آرائش کا کل تک جو ملتی تھی ہمیں وہ مزدوری بھی ختم ہوئی جیل سے واپس ...