چہرے پہ چمچاتی ہوئی دھوپ مر گئی
چہرے پہ چمچاتی ہوئی دھوپ مر گئی سورج کو ڈھلتا دیکھ کے پھر شام ڈر گئی مبہوت سے کھڑے رہے سب بس کی لائن میں کولہے اچھالتی ہوئی بجلی گزر گئی سورج وہی تھا دھوپ وہی شہر بھی وہی کیا چیز تھی جو جسم کے اندر ٹھٹھر گئی خواہش سکھانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر اب شام ہو چلی میاں دیکھو کدھر ...