چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کو
چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کو اور اس کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کرو باہر گلی میں شور ہے برسات کا سنو کنڈی لگا کے آج تو گھر میں پڑے رہو چھوڑ آئے کس کی چھت پہ جواں سال چاند کو خاموش کس لیے ہو ستارو جواب دو کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ ...