جلنے لگے خلا میں ہواؤں کے نقش پا
جلنے لگے خلا میں ہواؤں کے نقش پا سورج کا ہاتھ شام کی گردن پہ جا پڑا چھت پر پگھل کے جم گئی خوابوں کی چاندنی کمرے کا درد ہانپتے سایوں کو کھا گیا بستر میں ایک چاند تراشا تھا لمس نے اس نے اٹھا کے چائے کے کپ میں ڈبو دیا ہر آنکھ میں تھی ٹوٹتے لمحوں کی تشنگی ہر جسم پہ تھا وقت کا سایہ ...