ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروں
ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروں لیلیٰ کے ناپسند ہو محمل تو کیا کروں ٹھہرے نہ خوں بہا سوئے قاتل تو کیا کروں حق ہو جو خود بخود مرا باطل تو کیا کروں اک رنگ کو جہاں میں نہیں کوئی مانتا ہر رنگ میں رہوں نہ میں شامل تو یا کروں پسواؤں بے گناہ جو دل کو حنا کے ساتھ پرسان حال ہو کوئی ...