شاعری

تضاد

زمین گھومتی ہے روز اپنے محور پر فلک کھڑا ہے اسی طرح سر اٹھائے ہوئے دنوں کے پیچھے لگی ہیں اسی طرح راتیں سفر ہے جاری اسی طرح اب بھی لمحوں کا ہوا کے دوش پہ خوشبو کے قافلے اب بھی رتیں بدلنے کا پیغام لے کے آتے ہیں ہمارے بیچ مگر فاصلے جو قائم ہیں کسی طرح نہیں کم ہوتے بڑھتے جاتے ہیں!

مزید پڑھیے

مداوا

بھرے بازار میں اک شخص اب تک اسے مڑ مڑ کے دیکھے جا رہا ہے نہیں اتنی بھی سدھ باقی کہ سوچے یہ کب کا واقعہ یاد آ رہا ہے عیاں صورت سے ہے اس کی کہ جیسے زمیں پیروں کے نیچے ہل گئی ہو کوئی شے جو کبھی گم ہو گئی تھی اچانک راستے میں مل گئی ہو!

مزید پڑھیے

نرس

شہر کے ہسپتال میں اس کو ایک ہفتہ ہوا ہے آئے ہوئے ''سات نمبر'' کا کانا ٹھیکیدار کانپتا تھا جو دیکھ کر نشتر اس کے زخموں پہ آج کل وہ خود اپنے ہاتھوں سے پھائے رکھتی ہے لنگڑا بدھ سین ''گیارہ نمبر'' کا اس کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں گھونٹ کڑوی دوا کے پیتا ہے ''پانچ نمبر'' کا دق زدہ شاعر دیکھ ...

مزید پڑھیے

رات، معمول اور ہم

اپنے سائے سے بھی گھبرائیں گے ایک پل چین نہیں پائیں گے سوچتے سوچتے تھک جائیں گے ہانپتے کانپتے چل کر آخر تیرے دروازے پہ دستک دیں گے تو ہمیں دیکھ کے مغموم و ملول اپنی بانہوں کا سہارا دے گی اور ہم چین سے سو جائیں گے کل یہ سایہ ہمیں پھر گھیرے گا کل یہی فکر ہمیں کھائے گی اور ہم پھر اسی ...

مزید پڑھیے

میلہ

آدمیوں کے اس میلے میں وقت کی انگلی پکڑے پکڑے جانے کب سے گھوم رہا ہوں کبھی کبھی جی میں آتا ہے اس میلے کو چھوڑ کے میں بھی ان ٹیڑھی راہوں پر جاؤں دور سے جو سیدھی لگتی ہیں لیکن جانے کیوں اک سایہ رستہ روک کے کہہ دیتا ہے وقت کے ساتھ نہ چلنے والے مرتے دم تک پچھتاتے ہیں آدمیوں کے میلے میں ...

مزید پڑھیے

دھوپ

کھڑکی کے شیشے سے چھن کر کمرے میں آ جاتی ہے میز کی تصویروں کو اپنے ہاتھوں سے چمکاتی ہے ساری کتابوں کے چہروں کو اجلا کرتی جاتی ہے پھر میرے بستر سے مجھ کو اٹھنے پر اکساتی ہے میں روز اپنے خواب ادھورے چھوڑ کے باہر جاتا ہوں!

مزید پڑھیے

ہجرت

بہت دنوں سے مجھے انتظار ہے لیکن تمہارے شہر سے کوئی یہاں نہیں آیا میں سوچتا ہوں تو بس یہ کہ اب تمہاری شکل گزرتے وقت کے ہاتھوں بدل گئی ہوگی خمیدہ زلفوں کی کالی گھٹا میں اب شاید سفید بالوں کی تعداد بڑھ گئی ہو گی تمہارے گال پہ جو ایک تل چمکتا تھا پتہ نہیں وہ چمک اس میں اب بھی باقی ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کا مری اثر بھی ہو

چاہتوں کا مری اثر بھی ہو آگ جو ہے ادھر ادھر بھی ہو روشنی کا پتا کرو یارو رات ہے تو کہیں سحر بھی ہو یہ نظارے جو دیکھے بھالے ہیں کچھ ہماری نئی نظر بھی ہو قید ہے جو کہیں دیواروں میں اس خوشی کی ہمیں خبر بھی ہو جشن ہے جو ادھر بہاروں کا وہ خوشی کا سماں ادھر بھی ہو زندگی کے سفر میں اے ...

مزید پڑھیے

نرم ریشم سی ملائم کسی مخمل کی طرح

نرم ریشم سی ملائم کسی مخمل کی طرح سرد راتوں میں تری یاد ہے کمبل کی طرح میں زمانے سے الجھ سکتا ہوں اس کی خاطر جو سجاتا ہے مجھے آنکھ میں کاجل کی طرح کوئی ساگر کہیں پیاسا جو نظر آئے تو ہم برستے ہیں وہیں ٹوٹ کے بادل کی طرح خوبصورت تھی یہ کشمیر کی وادی جیسی زندگی تیرے بنا لگتی ہے ...

مزید پڑھیے

لوگ ملتے بچھڑتے رہتے ہیں

لوگ ملتے بچھڑتے رہتے ہیں رشتے بنتے بگڑتے رہتے ہیں یہ نئے راستے ہیں چاہت کے آئے دن جو اکھڑتے رہتے ہیں غم نہ کر دل کے ٹوٹ جانے کا یہ چمن تو اجڑتے رہتے ہیں ہے زمانہ نئی روایت کا لوگ باہم جھگڑتے رہتے ہیں دل رفو کب تلک کرو گے تم کچے دھاگے ادھڑتے رہتے ہیں بہتے رہتے ہیں اشک آنکھوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5599 سے 5858