وفا کی راہ میں گل ہی نہیں ہے خار بھی ہے
وفا کی راہ میں گل ہی نہیں ہے خار بھی ہے یہ جرم وہ ہے کہ پاداش اس کی دار بھی ہے سنبھل کے آ مرے ہمدم کہ راہ عشق و وفا مقام سجدہ بھی میدان کارزار بھی ہے مرے خدا تری رحمت کی آس رکھتا ہے ترا یہ بندہ کہ خاطی بھی شرمسار بھی ہے خزاں کا دور ہے گھبرا نہ بلبل غمگیں خزاں کے بعد ہی پھر موسم ...