بنا کر خود کو جس نے اک بھلا انسان رکھا ہے
بنا کر خود کو جس نے اک بھلا انسان رکھا ہے سکون قلب کا اپنے لئے سامان رکھا ہے سکوں کے ساتھ جینا تو بہت دشوار ہے لیکن زمانہ نے پہنچنا مرگ تک آسان رکھا ہے نہ کیوں محتاط رکھوں خود کو وقت گفتگو تم سے تمہارے دل کو میں نے آبگینہ جان رکھا ہے پری کیوں نیند کی اترے مری پلکوں کے آنگن ...