شاعری

جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے

جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے اگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہے مسافرت کا ہنر ہے نہ واپسی کی خبر سو چل رہا ہوں جدھر بھی یہ راستا گیا ہے اماں کو نیل میسر نہ میں کوئی موسیٰ مجھے سپرد فراعین کر دیا گیا ہے سبب نہیں تھا زمیں پر اتارنے کا مجھے سبب بغیر ہی واپس اٹھا لیا گیا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ

کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ بنا ہوا ہے تعلق سا استواری کا مرے طواف سے اس محور و مدار کے بیچ کہ آتا جاتا رہے عکس حیرتی اس میں بچھا دیا گیا آئینہ آر پار کے بیچ ہوا کے کھیل میں شرکت کے واسطے مجھ کو خزاں نے شاخ سے پھینکا ہے رہ گزار کے بیچ یہ ...

مزید پڑھیے

پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھ

پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھ باقی کے چار دن بھی گزار آئنے کے ساتھ حاسد بہت ہے پل میں ہویدا کرے خزاں اتنا نہ لگ کے بیٹھ بہار آئنے کے ساتھ پتھرا گئے ہیں لوگ تجلی سے حسن کی تھوڑا سا ڈال رخ پہ غبار آئنے کے ساتھ کرتا ہے عکس زیر و زبر نامراد وقت جب گھومتا ہے الٹے مدار آئنے کے ...

مزید پڑھیے

یہیں تھا بیٹھا ہوا درمیاں کہاں گیا میں

یہیں تھا بیٹھا ہوا درمیاں کہاں گیا میں کہ مل رہا نہیں اپنا نشاں کہاں گیا میں نہ کر رہا ہے فلاں کو فلاں خبر میری نہ پوچھتا ہے فلاں سے فلاں کہاں گیا میں نشان ملتا ہے حاضر میں کب گزشتہ کا بتا سکیں گے نہ آئندگاں کہاں گیا میں سجے ہوئے ہیں پیادہ و اسپ و فیل تمام بچھی ہوئی ہے بساط جہاں ...

مزید پڑھیے

منظر وقت کی یکسانی میں بیٹھا ہوا ہوں

منظر وقت کی یکسانی میں بیٹھا ہوا ہوں رات دن ایک سی ویرانی میں بیٹھا ہوا ہوں کوئی سامان سفر ہے نہ مسافت در پیش مطمئن بے سر و سامانی میں بیٹھا ہوا ہوں کبھی نایافت کا ہے تو کبھی کم یافت کا غم وجہ بے وجہ پریشانی میں بیٹھا ہوا ہوں کار دشوار ہے آغاز سے منکر جب تک کار بے کار کی آسانی ...

مزید پڑھیے

گلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنا

گلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنا یاں سب کو ہے ناکامیٔ یک گام میں رہنا پہلے تو بکھر جانا گزر گاہوں کے ہم راہ پھر حسرت دیوار و در و بام میں رہنا باغات میں پھرنا خس و خاشاک پہن کر ہر سلسلۂ سبز کے انجام میں رہنا ہر سانس میں گھلنا تری دہلیز کی خوشبو ہر آنکھ کا دوری کے سیہ دام میں ...

مزید پڑھیے

تری رحمتوں کا طالب مجھے آس تیرے در سے

تری رحمتوں کا طالب مجھے آس تیرے در سے یہ قدم بہک نہ جائے مری مفلسی کے ڈر سے ہے تونگروں کا میلہ تو غریب ہے اکیلا ترا دل نہ ٹوٹ جائے تو ابھی نہ جا ادھر سے کئی جام خالی کرکے وہ ابھی بھی ہوش میں ہیں میں نشہ میں ہوں قسم سے میں نے پی جو لی نظر سے اسے خوف نے کنارے پہ پہنچنے نہ دیا ...

مزید پڑھیے

سب منافق ہی نظر آتے ہیں باطل کے سوا

سب منافق ہی نظر آتے ہیں باطل کے سوا ہیں سبھی شاد مرے قتل پہ قاتل کے سوا اشک آنکھوں سے گناہوں کی ندامت میں بہے تب بھنور سے نہ کہیں پہنچا میں ساحل کے سوا خواب دیکھو ہے ترقی کی ضمانت بے شک سب کو تعبیر مگر ملتی ہے کاہل کے سوا مسلکی جھگڑے فروعی یہ مسائل کو لئے آگ عالم ہی لگاتے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

مصیبت کے بھنور میں بھی شناور وہ سنبھلتا ہے

مصیبت کے بھنور میں بھی شناور وہ سنبھلتا ہے یقیں ہو جس کو خود پر وہ تلاطم سے نکلتا ہے ہتھیلی کی لکیروں سے نجومی کی ہی باتوں سے نکما اور کاہل تو خوشی سے بس اچھلتا ہے وفا کی راہ میں ہمدم غریبی ہو گئی حائل تجھے پانے کی خواہش میں مرا تو دل مچلتا ہے ہواؤں سے نہ گھبراؤ چراغوں کو جلانے ...

مزید پڑھیے

ملا قطرہ تو کرتے کیوں شکایت تم مقدر کی

ملا قطرہ تو کرتے کیوں شکایت تم مقدر کی گلہ قسمت کا ہے پھر کیوں نہ کوشش کی سمندر کی بڑے اخلاق والی ان کی اولاد نرینہ ہے شریعت کے تمسخر میں زباں چلتی ہے دختر کی اگر ہے خاکساری تو بلندی پر قدم ہوں گے جگہ فرعون حاصل کر نہیں سکتا سکندر کی خدا پر ہو یقیں کامل اگر انساں نہ ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4357 سے 5858