جو مٹا ہے تیرے جمال پر وہ ہر ایک غم سے گزر گیا
جو مٹا ہے تیرے جمال پر وہ ہر ایک غم سے گزر گیا ہوئیں جس پہ تیری نوازشیں وہ بہار بن کے سنور گیا تری مست آنکھ نے اے صنم مجھے کیا نظر سے پلا دیا کہ شراب خانے اجڑ گئے جو نشہ چڑھا تھا اتر گیا ترا عشق ہے مری زندگی ترے حسن پہ میں نثار ہوں ترا رنگ آنکھ میں بس گیا ترا نور دل میں اتر گیا کہ ...