شاعری

اک عشق تھا جو ہم سے دوبارہ نہیں ہوا

اک عشق تھا جو ہم سے دوبارہ نہیں ہوا کیا کیا وگرنہ دل کو خسارہ نہیں ہوا اک لفظ جس کے عجز میں اظہار دم بخود اک نام میری آنکھ کا تارہ نہیں ہوا وہ خواب بن کے آنکھ سے پھوٹا تو ہے مگر اک اشک بن گیا ہے شرارہ نہیں ہوا ہم کوزہ گر کے ہاتھ میں بھی جڑ نہیں سکے اس بھر بھری سی خاک کا گارا نہیں ...

مزید پڑھیے

کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے

کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے مجھے خبر نہ ہوئی اور زمانہ جاتے ہوئے نظر بچا کے ترا نام لے گیا مجھ سے اسے زیادہ ضرورت تھی گھر بسانے کی وہ آ کے میرے در و بام لے گیا مجھ سے بھلا کہاں کوئی جز اس کے ملنے والا تھا بس ایک جرأت ناکام لے گیا مجھ سے بس ...

مزید پڑھیے

زندگی کے بہت مسائل ہیں

زندگی کے بہت مسائل ہیں ہر قدم پر پہاڑ حائل ہیں اے دل بے قرار مدت سے ہم تری وحشتوں کے قائل ہیں ایسے تکتے ہیں آپ کی جانب جیسے موسم نہیں ہیں سائل ہیں پھول خوشبو ہوا شجر بارش ایک تیری طرف ہی مائل ہیں فاصلہ تو بہت ہی کم ہے مگر درمیاں میں کئی مسائل ہیں اس کے چہرے کے سامنے فرحتؔ رنگ ...

مزید پڑھیے

خوشبو سا بدن یاد نہ سانسوں کی ہوا یاد

خوشبو سا بدن یاد نہ سانسوں کی ہوا یاد اجڑے ہوئے باغوں کو کہاں باد صبا یاد آتی ہے پریشانی تو آتا ہے خدا یاد ورنہ نہیں دنیا میں کوئی تیرے سوا یاد جو بھولے سے بھولے ہیں مگر تیرے علاوہ اک بچھڑا ہوا دل ہمیں آتا ہے سدا یاد میں تو ہوں اب اک عمر سے پچھتاووں کی زد میں کیا تم کو بھی آتی ہے ...

مزید پڑھیے

موت کا وقت گزر جائے گا

موت کا وقت گزر جائے گا یہ بھی سیلاب اتر جائے گا آ گیا ہے جو کسی سکھ کا خیال مجھ کو چھوئے گا تو مر جائے گا کیا خبر تھی مرا خاموش مکاں اپنی آواز سے ڈر جائے گا آ گیا ہے جو دکھوں کا موسم کچھ نہ کچھ تو کہیں دھر جائے گا جھوٹ بولے گا تو کیا ہے اس میں کوئی وعدا بھی تو کر جائے گا اس کے ...

مزید پڑھیے

تمہارے خواب مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں

تمہارے خواب مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں کئی سراب مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں تمہارا غم غم دنیا علوم آگاہی سبھی عذاب مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اسی لیے تو میں عریانیوں سے ہوں محفوظ بہت حجاب مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں نہ جانے کون ہیں یہ لوگ جو کہ صدیوں سے پس نقاب مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں میں بے ...

مزید پڑھیے

دل بھی آوارہ نظر آوارہ

دل بھی آوارہ نظر آوارہ کٹ گیا سارا سفر آوارہ زندگی بھٹکا ہوا جنگل ہے راہ بے چین شجر آوارہ روح کی کھڑکی سے ہم جھانکتے ہیں اور لگتا ہے نگر آوارہ تجھ کو معلوم کہاں ہوگا کہ شب کیسے کرتے ہیں بسر آوارہ مجھ کو معلوم ہے اپنے بارے ہوں بہت اچھا مگر آوارہ یہ الگ بات کہ بس پل دو پل لوٹ کے ...

مزید پڑھیے

کہا میں کہاں ہو تم

کہا میں کہاں ہو تم جواب آیا جہاں ہو تم مرے جیون سے ظاہر ہو مرے غم میں نہاں ہو تم مری تو ساری دنیا ہو مرا سارا جہاں ہو تم مری سوچوں کے محور ہو مرا زور بیاں ہو تم میں تو لفظ محبت ہوں مگر میری زباں ہو تم

مزید پڑھیے

غم کا مارا کبھی نہ ہو کوئی

غم کا مارا کبھی نہ ہو کوئی بے سہارا کبھی نہ ہو کوئی جب ہر اک شخص ہو فقط دریا جب کنارا کبھی نہ ہو کوئی گر کبھی ہو تو ہو فقط تشبیہ استعارہ کبھی نہ ہو کوئی کیوں بھلا اس طرح طبیعت ہو کیوں گوارا کبھی نہ ہو کوئی تو کہ اک عمر انتظار کرے اور اشارہ کبھی نہ ہو کوئی اس قدر ہوں تہی خدا نہ ...

مزید پڑھیے

سفر کے لاکھ حیلے ہیں

سفر کے لاکھ حیلے ہیں یہ دریا تو وسیلے ہیں کہاں سے ہو کے آئی ہے ہوا کے ہاتھ پیلے ہیں ڈسا ہے ہجر نے ہم کو ہمارے سانس نیلے ہیں خدایا خشک رت میں بھی ہمارے نین گیلے ہیں میں شاعر ہوں محبت کا مرے دکھ بھی رسیلے ہیں ابھی تو جنگ جاری ہے مگر اعصاب ڈھیلے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 4279 سے 5858