اداس شام میں پژمردہ باد بن کے نہ آ
اداس شام میں پژمردہ باد بن کے نہ آ جو آ سکے تو خود آ اپنی یاد بن کے نہ آ کبھی سحر بھی تو بن اے وصال کے موسم سدا یوں ہی شب مرگ مراد بن کے نہ آ تجھے ترے مہ و انجم کا واسطہ اے رات مرے ان اجلے دروں پر سواد بن کے نہ آ کتاب زیست خدا را کوئی غزل بھی سنا شکست جاں کی فقط روئداد بن کے نہ ...