شاعری

اداس شام میں پژمردہ باد بن کے نہ آ

اداس شام میں پژمردہ باد بن کے نہ آ جو آ سکے تو خود آ اپنی یاد بن کے نہ آ کبھی سحر بھی تو بن اے وصال کے موسم سدا یوں ہی شب مرگ مراد بن کے نہ آ تجھے ترے مہ و انجم کا واسطہ اے رات مرے ان اجلے دروں پر سواد بن کے نہ آ کتاب زیست خدا را کوئی غزل بھی سنا شکست جاں کی فقط روئداد بن کے نہ ...

مزید پڑھیے

شوق آسودۂ تحلیل معمہ نہ ہوا

شوق آسودۂ تحلیل معمہ نہ ہوا تیرا بیمار طلسمات سے اچھا نہ ہوا تو نے دے کر مجھے جو خواب اتارا تھا یہاں ان میں اک خواب بھی تیرا کوئی سچا نہ ہوا امتداد سحر و شام زمانوں کی قسم ایک بھی رنگ مرے پیار کا پھیکا نہ ہوا شوق بے حد نے کسی گام ٹھہرنے نہ دیا ورنہ کس گام مرا خون تمنا نہ ...

مزید پڑھیے

متاع درد مآل حیات ہے شاید

متاع درد مآل حیات ہے شاید دل شکستہ مری کائنات ہے شاید بس اک نقاب تھی وہ صبح نو کے چہرہ پر ہم اس فریب میں الجھے کہ رات ہے شاید خرد کی حد بھی ملی ہے جنون پر آ کر جنون قہر خرد سے نجات ہے شاید یہ اک خلش کہ مسلسل ستا رہی ہے مجھے کہ لب وہ کانپے ہیں کیوں کوئی بات ہے شاید انہیں گماں کہ ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں کیا کل شب آخری پہر دیکھا

کیا بتائیں کیا کل شب آخری پہر دیکھا کارگاہ گردوں پر چاند کا سفر دیکھا جلوہ گاہ ہستی میں حسن جلوہ گر دیکھا ہائے ہم نفس مت پوچھ کب کہاں کدھر دیکھا آہ وہ شب پر نم اف وہ نور کی محفل درمیاں ستاروں کے جلوۂ قمر دیکھا اس جمال عریاں کو صرف اک نظر دیکھا پھر وہی نظر آیا جب جہاں جدھر ...

مزید پڑھیے

جلوہ ہے وہ کہ تاب نظر تک نہیں رہی

جلوہ ہے وہ کہ تاب نظر تک نہیں رہی دیکھا اسے تو اپنی خبر تک نہیں رہی احساس پر گراں رہا احساس کا طلسم یہ عمر کی تکان سفر تک نہیں رہی جن پر تمہارے آنے سے کھلتے رہے گلاب اب دل میں ایسی راہ گزر تک نہیں رہی اک دن وہ گھر سے نکلے نہیں سیر کے لیے اب خواہش نمو میں سحر تک نہیں رہی جس کو ...

مزید پڑھیے

شہر در شہر دیدہ ور بھٹکے

شہر در شہر دیدہ ور بھٹکے زعم باطل میں تاجور بھٹکے خود سری میں جو معتبر بھٹکے ہم سفر ان کے بے خبر بھٹکے فن کی پگڈنڈیوں پہ چلتے ہوئے کبھی بھٹکے تو بے ہنر بھٹکے ہم جو بھٹکے تو نا شناسا تھے راہبر کیوں ادھر ادھر بھٹکے ایک عالم کو جس نے بھٹکایا کبھی یوں ہو کہ وہ نظر بھٹکے اپنی منزل ...

مزید پڑھیے

خیال آتشیں خوابیدہ صورتیں دی ہیں

خیال آتشیں خوابیدہ صورتیں دی ہیں سخاۓ ہجر نے اب بھی نمائشیں دی ہیں یہ اب جو خواب زمانوں نے دستکیں دی ہیں پس مراد حقائق کی منزلیں دی ہیں مرے لباس کے پیوند مفلسی پہ نہ جا مرے جنوں نے محبت کو خلعتیں دی ہیں مرے مزاج کا موسم عجیب موسم ہے کہ جس کے غم نے بھی ہستی کو رونقیں دی ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

جب تری ذات کو پھیلا ہوا دریا سمجھوں

جب تری ذات کو پھیلا ہوا دریا سمجھوں خود کو بھیگی ہوئی راتوں میں اکیلا سمجھوں نام لکھوں میں ترا دور خلاؤں میں کہیں اور ہر لفظ کو پھر چاند سے پیارا سمجھوں یاد کی جھیل میں جب عکس نظر آئے ترا آنکھ سے اشک بھی ٹپکے تو ستارا سمجھوں دستکیں دیتا رہا رات جو گلیوں میں اسے ذہن آوارہ کہوں ...

مزید پڑھیے

ذکر شب کے سعید ہو گئے کیا

ذکر شب کے سعید ہو گئے کیا سحر سائے بعید ہو گئے کیا درد کن سے کشید ہو گئے کیا خواب شب سے خرید ہو گئے کیا زندگی کیوں ہے لرزہ بر اندام زلزلے بھی شدید ہو گئے کیا کوئی باقی نہیں طلسم جمال عشق والے شہید ہو گئے کیا ادب آداب کے زمانے گئے سلسلے کچھ مزید ہو گئے کیا ہجر ہجرت ملال غم ...

مزید پڑھیے

تو اپنے ہونے کا ہر اک نشاں سنبھال کے مل

تو اپنے ہونے کا ہر اک نشاں سنبھال کے مل یقیں سنبھال کے مل اور گماں سنبھال کے مل ہم اپنے بارے کبھی مشتعل نہیں ہوتے فقیر لوگ ہیں ہم سے زباں سنبھال کے مل وجود واہمہ ویرانیوں میں گھومتا ہے یہ بے کراں ہے تو پھر بے کراں سنبھال کے مل یہ مرحلے ہیں عجب اس لیے سمندر سے ہوا کو تھام کے مل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4280 سے 5858