یہ کیا ہوا کہ سبھی اب تو داغ جلنے لگے
یہ کیا ہوا کہ سبھی اب تو داغ جلنے لگے ہوا چلی تو لہو میں چراغ جلنے لگے مٹا گیا تھا لہو کے سبھی نشاں قاتل مگر جو شام ڈھلی سب چراغ جلنے لگے اک ایسی فصل اترنے کو ہے گلستاں میں زمانہ دیکھے کہ پھولوں سے باغ جلنے لگے نگاہ طائر زنداں اٹھی تھی گھر کی طرف کہ سوز آتش گریاں سے داغ جلنے ...