جنہیں محفلوں سے غرض نہ تھی وہ جو قید اپنے گھروں میں تھے
جنہیں محفلوں سے غرض نہ تھی وہ جو قید اپنے گھروں میں تھے وہی اعتبار زمانہ تھے وہی لوگ دیدہ وروں میں تھے ہوئے ہاتھ اب تو لہو لہو سر چشم اندھیرا ہے چار سو کبھی ہم بھی آئنہ ساز تھے کبھی ہم بھی شیشہ گروں میں تھے چلی شہر میں وہ ہوائے زر کہ غبار بن کے گئے بکھر وہ جو خواب آنکھوں میں تھے ...