مجھے زندگی نے دیا کچھ نہیں
مجھے زندگی نے دیا کچھ نہیں مگر مجھ کو اس کا گلا کچھ نہیں خیالوں کے خنجر بہت تیز ہیں وہی خوش ہے جو سوچتا کچھ نہیں بہت خوب رو تھا مرا ہم سخن اسے دیکھنے میں سنا کچھ نہیں بس اک پل کی دیوار ہے درمیاں عدم سے مرا فاصلہ کچھ نہیں وہ گل نذر خاک خزاں ہو گئے خبر تجھ کو باد صبا کچھ نہیں یہ ...