شاعری

مجھے زندگی نے دیا کچھ نہیں

مجھے زندگی نے دیا کچھ نہیں مگر مجھ کو اس کا گلا کچھ نہیں خیالوں کے خنجر بہت تیز ہیں وہی خوش ہے جو سوچتا کچھ نہیں بہت خوب رو تھا مرا ہم سخن اسے دیکھنے میں سنا کچھ نہیں بس اک پل کی دیوار ہے درمیاں عدم سے مرا فاصلہ کچھ نہیں وہ گل نذر خاک خزاں ہو گئے خبر تجھ کو باد صبا کچھ نہیں یہ ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے خواب کا رشتہ نہیں رہنے دیتی

آنکھ سے خواب کا رشتہ نہیں رہنے دیتی یاد اس کی مجھے تنہا نہیں رہنے دیتی لذت در بدری میں بڑی وسعت ہے کہ یہ در و دیوار کا جھگڑا نہیں رہنے دیتی گھر ہو یا رونق بازار کہیں بھی جاؤں بے قراری تو کسی جا نہیں رہنے دیتی بند کر لوں تو عجب نقش نظر آتے ہیں آنکھ محروم تماشا نہیں رہنے ...

مزید پڑھیے

مژہ پہ اشک الم جھلملائے آخر شب

مژہ پہ اشک الم جھلملائے آخر شب بچھڑنے والے بہت یاد آئے آخر شب وہ جن کے قرب سے ڈھارس تھی میرے دل کو بہت کوئی کہیں سے انہیں ڈھونڈ لائے آخر شب یہ شور باد زمستاں یہ راستہ سنسان ڈرا رہے ہے درختوں کے سائے آخر شب ہوا میں درد کی شدت سے زمزمہ پیرا سنے گا کون یہ میری صدائے آخر شب روانہ ...

مزید پڑھیے

فصیل جان پہ سائے ہیں زرد بیلوں کے

فصیل جان پہ سائے ہیں زرد بیلوں کے یہ کیسے ابر سے چھائے ہیں زرد بیلوں کے تمہاری آنکھوں پہ خوشبو اتر چکی لیکن ہمیں تو خواب تک آئے ہیں زرد بیلوں کے وہ سرخ پھول کتابوں میں دیکھ روتا رہا جسے بھی قصے سنائے ہیں زرد بیلوں کے خبر نہیں بھی ہوا کو تو باغ جانتا ہے جو میں نے رنج اٹھائے ہیں ...

مزید پڑھیے

ترے سوا تو نظر میں کوئی جچا ہی نہیں

ترے سوا تو نظر میں کوئی جچا ہی نہیں یہ مسئلہ تو مگر تجھ کو دکھ رہا ہی نہیں وہ دل کی بات نگاہوں سے جان سکتا تھا وہ جلدباز مگر ان میں جھانکتا ہی نہیں لکیر کھینچ کے نقشہ غلط کیا میں نے کہ میرا ہاتھ کسی کی طلب رہا ہی نہیں سمے کی جھیل نے پانی ترائی پر پھینکا وہ شہ سوار مگر اس طرف گیا ...

مزید پڑھیے

چراغ صبر کے جس نے جلائے رویا ہے

چراغ صبر کے جس نے جلائے رویا ہے ہوا سے ربط و تعلق بڑھائے رویا ہے سلگتے خوابوں کی تعبیر کی بناوٹ میں جو اپنی آنکھیں مسلسل جگائے رویا ہے یہی نہیں کہ پرندے لہو بہاتے ہیں اداس تنہا شجر بھی تو ہائے رویا ہے سمجھ لو پانی سے نسبت اسے رہی ہوگی جو کینوس پہ سمندر بنائے رویا ہے میں جانتی ...

مزید پڑھیے

پرائے دشت میں نیندیں لٹا کے آئی ہوں

پرائے دشت میں نیندیں لٹا کے آئی ہوں پر اس کی آنکھ میں سپنے سجا کے آئی ہوں میں کوزہ گر تو نہیں تھی مگر حقیقت ہے میں اس کی مرضی کا اس کو بنا کے آئی ہوں جسے بھی جانا ہو جائے چراغ جلتا ہوا بڑا کٹھن تھا اگرچہ بجھا کے آئی ہوں پلٹ تو آئی ہوں لیکن خموش دریا کو سلگتی پیاس کا قصہ سنا کے آئی ...

مزید پڑھیے

کسی کو کب وہ اپنے دل کا کچھ احوال دیتا ہے

کسی کو کب وہ اپنے دل کا کچھ احوال دیتا ہے میں اس سے بات کرتا ہوں وہ مجھ کو ٹال دیتا ہے کوئی تو ہے جو اس حیرت سرائے نور و ظلمت میں ستارے کو ضیا آئینے کو تمثال دیتا ہے بہت انکار کرتا ہے سوال وصل پر لیکن خفا ہو جاؤں تو گردن میں بانہیں ڈال دیتا ہے کوئی چہروں کا سوداگر چھپا ہے اس ...

مزید پڑھیے

پوچھے جو نشاں کوئی انجان نکلتے ہیں

پوچھے جو نشاں کوئی انجان نکلتے ہیں ہم راہ گزاروں سے بے دھیان نکلتے ہیں دل تازہ مراسم کے آغاز سے ڈرتا ہے ملنے سے بچھڑنے کے امکان نکلتے ہیں کس سمت کو جاتے ہیں اے راہ چمن آخر لشکر گل و نکہت کے ہر آن نکلتے ہیں گھر رہیے کہ باہر ہے اک رقص بلاؤں کا اس موسم وحشت میں نادان نکلتے ہیں تم ...

مزید پڑھیے

شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا

شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا اور پھر ایک ہی چہرہ تھا کہ ہر سو چمکا اے چراغ نگۂ یار میں جاں سے گزرا اب مجھے کیا جو پئے دل زدگاں تو چمکا روز ملتے تھے تو بے رنگ تھا تیرا ملنا دور رہنے سے ترے قرب کا جادو چمکا دل میں پھر بجھنے لگا ضبط کا تارا کوئی پھر مری نوک مژہ پر کوئی آنسو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4276 سے 5858