شاعری

کچھ اب کے بہاروں کا بھی انداز نیا ہے

کچھ اب کے بہاروں کا بھی انداز نیا ہے ہر شاخ پہ غنچے کی جگہ زخم کھلا ہے دو گھونٹ پلا دے کوئی مے ہو کہ ہلاہل وہ تشنہ لبی ہے کہ بدن ٹوٹ رہا ہے اس رند سیہ مست کا ایمان نہ پوچھو تشنہ ہو تو مخلوق ہے پی لے تو خدا ہے کس بام سے آتی ہے تری زلف کی خوشبو دل یادوں کے زینے پہ کھڑا سوچ رہا ہے کل ...

مزید پڑھیے

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے دیکھ یوں وقت کی دہلیز سے ٹکرا کے نہ گر راستے بند نہیں سوچنے والوں کے لیے آؤ تعمیر کریں اپنی وفا کا معبد ہم نہ مسجد کے لیے ہیں نہ شوالوں کے لیے سالہا سال عقیدت سے کھلا رہتا ہے منفرد راہوں کا آغوش جیالوں کے ...

مزید پڑھیے

دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں

دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں کتنے ہی زخموں کے شہر بساتے ہیں کرب کی ہاہا کار لیے جسموں میں ہم جنگل جنگل صحرا صحرا جاتے ہیں دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں سوچوں کو لفظوں کی سزا دینے والے سپنوں کے سچے ہونے سے گھبراتے ہیں درد کا زندہ رہنا پیاس ...

مزید پڑھیے

اپنے ہی سائے میں تھا میں شاید چھپا ہوا

اپنے ہی سائے میں تھا میں شاید چھپا ہوا جب خود ہی ہٹ گیا تو کہیں راستہ ملا جلتے رہے ہیں اپنے ہی دوزخ میں رات دن ہم سے زیادہ کوئی ہمارا عدو نہ تھا دیکھا نہ پھر پلٹ کے کسی شہسوار نے میں ہر صدا کا نقش قدم کھوجتا رہا دیوار پھاند کر نہ یہاں آئے گا کوئی رہنے دو زخم دل کا دریچہ کھلا ...

مزید پڑھیے

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں کون آ کر ناپتا احساس کی پہنائیاں اب کسی موسم کی بے رحمی کا کوئی غم نہیں ہم نے آنکھوں میں سجائی ہیں تری انگڑائیاں آپ کیا آئے بہاروں کے دریچے کھل گئے خوشبوؤں میں بس گئیں ترسی ہوئی تنہائیاں چاند بن کر کون اترا ہے قبائے جسم میں جاگ اٹھی ہیں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک راستے کا ہم سفر رہا ہوں میں

ہر ایک راستے کا ہم سفر رہا ہوں میں تمام عمر ہی آشفتہ سر رہا ہوں میں قدم قدم پہ وہاں قربتیں تھیں اور یہاں ہجوم شہر سے تنہا گزر رہا ہوں میں پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں یہ کیسی رفعتیں آئینۂ نگاہ میں ہیں کسی ستارے پہ جیسے اتر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

خرد بھی نا مہرباں رہے گی شعور بھی سر گراں رہے گا

خرد بھی نا مہرباں رہے گی شعور بھی سر گراں رہے گا ان آندھیوں میں مرا جنون وفا مگر ضو فشاں رہے گا بدل سکے گی نہ فطرت سرکشی کو یہ گردش زمانہ ازل سے جو آسماں بنا ہے ابد تلک آسماں رہے گا الجھ الجھ کر مجھے حوادث کی تند لہروں سے کھیلنے دو فسردہ ساحل کا خشک ماحول مجھ کو بار گراں رہے ...

مزید پڑھیے

کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی

کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی کچھ تلافی نگار فصل خزاں ہم لٹے قافلے ہیں پہلے ہی اور لے جائے گا کہاں گلچیں سارے مقتل کھلے ہیں پہلے ہی اب زباں کاٹنے کی رسم نہ ڈال کہ یہاں لب سلے ہیں پہلے ہی اور کس شئے کی ہے طلب فارغؔ درد کے سلسلے ہیں پہلے ہی

مزید پڑھیے

دیکھے کوئی جو چاک گریباں کے پار بھی

دیکھے کوئی جو چاک گریباں کے پار بھی آئینۂ خزاں میں ہے عکس بہار بھی اب ہر نفس ہے بھیگی صداؤں کی اک فصیل موج ہوس تھی گردش لیل و نہار بھی کیا شورش جنوں ہے ذرا کم نہیں ہوا قربت کے باوجود ترا انتظار بھی کتنی عقیدتوں کے جگر چاک ہو گئے کیا سحر تھا شعور نظر کا خمار بھی جو عرش و فرش پر ...

مزید پڑھیے

ہمیں سلیقہ نہ آیا جہاں میں جینے کا

ہمیں سلیقہ نہ آیا جہاں میں جینے کا کبھی کیا نہ کوئی کام بھی قرینے کا تمہارے ساتھ ہی اس کو بھی ڈوب جانا ہے یہ جانتا ہے مسافر ترے سفینے کا کچھ اس کا ساتھ نبھانا محال تھا یوں بھی ہمارا اپنا تھا انداز ایک جینے کا سخاوتوں نے گہرساز کر دیا ہے انہیں کوئی صدف نہیں محتاج آبگینے کا

مزید پڑھیے
صفحہ 4248 سے 5858