شاعری

ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہے

ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہے زہر پی لوں گا ترے ہاتھ سے صہبا کیا ہے میں چلا آیا ترا حسن تغافل لے کر اب تری انجمن ناز میں رکھا کیا ہے نہ بگولے ہیں نہ کانٹے ہیں نہ دیوانے ہیں اب تو صحرا کا فقط نام ہے صحرا کیا ہے ہو کے مایوس وفا ترک وفا تو کر لوں لیکن اس ترک وفا کا بھی بھروسا ...

مزید پڑھیے

چہرۂ صبح نظر آیا رخ شام کے بعد

چہرۂ صبح نظر آیا رخ شام کے بعد سب کو پہچان لیا گردش ایام کے بعد مل گئی راہ یقیں منزل اوہام کے بعد جلوے ہی جلوے نظر آئے در و بام کے بعد چاہیئے اہل محبت کو کہ دیوانہ بنیں کوئی الزام نہ آئے گا اس الزام کے بعد امتحان طلب خام لیا ساقی نے جام لبریز دیا درد تہ جام کے بعد ہائے کیا چیز ...

مزید پڑھیے

یا رب مری حیات سے غم کا اثر نہ جائے

یا رب مری حیات سے غم کا اثر نہ جائے جب تک کسی کی زلف پریشاں سنور نہ جائے وہ آنکھ کیا جو عارض و رخ پر ٹھہر نہ جائے وہ جلوہ کیا جو دیدہ و دل میں اتر نہ جائے میرے جنوں کو زلف کے سائے سے دور رکھ رستے میں چھاؤں پا کے مسافر ٹھہر نہ جائے میں آج گلستاں میں بلا لوں بہار کو لیکن یہ چاہتا ہوں ...

مزید پڑھیے

کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن

کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن جب تک الجھے نہ کانٹوں سے دامن یک بیک سامنے آ نہ جانا رک نہ جائے کہیں دل کی دھڑکن گل تو گل خار تک چن لیے ہیں پھر بھی خالی ہے گلچیں کا دامن کتنی آرائش آشیانہ ٹوٹ جائے نہ شاخ نشیمن عظمت آشیانہ بڑھا دی برق کو دوست سمجھوں کہ دشمن ان گلوں سے تو کانٹے ہی ...

مزید پڑھیے

گھر ہوا گلشن ہوا صحرا ہوا

گھر ہوا گلشن ہوا صحرا ہوا ہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوا غیرت اہل چمن کو کیا ہوا چھوڑ آئے آشیاں جلتا ہوا حسن کا چہرہ بھی ہے اترا ہوا آج اپنے غم کا اندازہ ہوا پرسش غم آپ رہنے دیجئے یہ تماشا ہے مرا دیکھا ہوا یہ عمارت تو عبادت گاہ ہے اس جگہ اک میکدہ تھا کیا ہوا غم سے نازک ضبط غم کی بات ...

مزید پڑھیے

جھوٹی ہی تسلی ہو کچھ دل تو بہل جائے

جھوٹی ہی تسلی ہو کچھ دل تو بہل جائے دھندھلی ہی سہی لیکن اک شمع تو جل جائے اس موج کی ٹکر سے ساحل بھی لرزتا ہے کچھ روز تو طوفاں کی آغوش میں پل جائے مجبوریٔ ساقی بھی اے تشنہ لبو سمجھو واعظ کا یہ منشا ہے مے خواروں میں چل جائے اے جلوۂ جانانہ پھر ایسی جھلک دکھلا حسرت بھی رہے باقی ...

مزید پڑھیے

جب میرے راستے میں کوئی مے کدہ پڑا

جب میرے راستے میں کوئی مے کدہ پڑا اک بار اپنے غم کی طرف دیکھنا پڑا ترک تعلقات کو اک لمحہ چاہئے لیکن تمام عمر مجھے سوچنا پڑا اک تشنہ لب نے چھین لیا بڑھ کے جام مے ساقی سمجھ رہا تھا سبھی کو گرا پڑا آئے تھے پوچھتے ہوئے میخانے کا پتہ ساقی سے لیکن اپنا پتہ پوچھنا پڑا یوں جگمگا رہا ...

مزید پڑھیے

ڈوبنے والے کی میت پر لاکھوں رونے والے ہیں

ڈوبنے والے کی میت پر لاکھوں رونے والے ہیں پھوٹ پھوٹ کر جو روتے ہیں وہی ڈبونے والے ہیں کس کس کو تم بھول گئے ہو غور سے دیکھو بادہ کشو شیش محل کے رہنے والے پتھر ڈھونے والے ہیں سونے کا یہ وقت نہیں ہے جاگ بھی جاؤ بے خبرو ورنہ ہم تو تم سے زیادہ چین سے سونے والے ہیں آج سنا کر اپنا فسانہ ...

مزید پڑھیے

اے حسن زمانے کے تیور بھی تو سمجھا کر

اے حسن زمانے کے تیور بھی تو سمجھا کر اب ظلم سے باز آ جا اب جور سے توبہ کر ٹوٹے ہوئے پیمانے بے کار سہی لیکن مے خانے سے اے ساقی باہر تو نہ پھینکا کر جلوہ ہو تو جلوہ ہو پردہ ہو تو پردہ ہو توہین تجلی ہے چلمن سے نہ جھانکا کر ارباب جنوں میں ہیں کچھ اہل خرد شامل ہر ایک مسافر سے منزل کو ...

مزید پڑھیے

یوں انتقام تجھ سے فصل بہار لیں گے

یوں انتقام تجھ سے فصل بہار لیں گے پھولوں کے سامنے ہم کانٹوں کے پیار لیں گے جانے دو ہم کو تنہا طوفان آرزو میں جب ڈوبنے لگیں گے تم کو پکار لیں گے جو کچھ تھا پاس اپنے دنیا نے لے لیا ہے اک جان رہ گئی ہے وہ غم گسار لیں گے اس دور تشنگی میں کیا مے کدہ کو چھوڑیں کچھ دن گزر گئے ہیں کچھ دن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4244 سے 5858