عمر بھر کی دوستی کا ہاں بھرم رکھا نہ تھا
عمر بھر کی دوستی کا ہاں بھرم رکھا نہ تھا بعد مدت کے کھلا مجھ پہ کہ وہ میرا نہ تھا یوں جلائے زندگی بھر میں نے یادوں کے چراغ سامنے جن کے چراغ دیگراں جلتا نہ تھا کل میں اس کی گفتگو سنتی رہی سنتی رہی اس محبت سے وہ پہلے تو کبھی بولا نہ تھا کچھ تو اندازہ تھا مجھ کو اس کی آنکھوں کا ...