شاعری

عمر بھر کی دوستی کا ہاں بھرم رکھا نہ تھا

عمر بھر کی دوستی کا ہاں بھرم رکھا نہ تھا بعد مدت کے کھلا مجھ پہ کہ وہ میرا نہ تھا یوں جلائے زندگی بھر میں نے یادوں کے چراغ سامنے جن کے چراغ دیگراں جلتا نہ تھا کل میں اس کی گفتگو سنتی رہی سنتی رہی اس محبت سے وہ پہلے تو کبھی بولا نہ تھا کچھ تو اندازہ تھا مجھ کو اس کی آنکھوں کا ...

مزید پڑھیے

نہ راس آیا محبت کا ی خمار مجھے

نہ راس آیا محبت کا ی خمار مجھے میں بیقرار ہوں پل بھر نہیں قرار مجھے پکارتا تھا مجھے پیار سے جو بوئے گلاب اسی نے کانٹوں کا پہنا دیا ہے ہار مجھے جو میرے پیار کو ٹھکرا کے ہو گیا انجان کیوں اپنی یاد دلاتا ہے بار بار مجھے دلا رہا ہے محبت کا پھر یقیں مجھ کو چلا گیا جو محبت میں کر کے ...

مزید پڑھیے

زہراب رگ جاں میں اتارا ہی بہت تھا

زہراب رگ جاں میں اتارا ہی بہت تھا بستی نے تری مجھ کو رلایا ہی بہت تھا ویران ہوئے آہ کے اثرات سے مسکن لوگوں نے مجھے مل کے ستایا ہی بہت تھا ہونا تھا کسی روز ہمیں یوں بھی تو پسپا پلکوں پہ تجھے ہم نے بٹھایا ہی بہت تھا اک روز تو ملنا تھا جفا کش کو صلہ بھی پیغام وفا ہم نے سنایا ہی بہت ...

مزید پڑھیے

آج پھر سے موسم بدلا ہے

آج پھر سے وہ یاد آیا ہے ان لمحوں کا لمس ہاتھوں میں باقی ہے خزاں سرد موسم کی ردا اوڑھے بھٹکنے لگی ہے پھر سے یاد ہے وہ سب مجھ کو اب بھی اسی طرح ملتے جلتے موسم میں سمندر کنارے لہریں جب اچھلتی کودتی پیروں پہ دم توڑتی تھیں میرے ذہن کے اک اک گوشے میں یادیں ابھی بھی رقص کرتی ہیں بے خودی ...

مزید پڑھیے

دل میں شگفتہ گل بھی ہیں روشن چراغ بھی

دل میں شگفتہ گل بھی ہیں روشن چراغ بھی کیا چیز ہیں یہ سوز محبت کے داغ بھی ٹوٹا تھا ایک جام سفالی نہ جانے کیوں رندوں نے توڑ ڈالے منقش ایاغ بھی تدبیر چارہ سازیٔ دل سوچنے کے بعد رہتا ہے بد گماں مرے دل سے دماغ بھی ہم وہ نہیں جو موت کے پردوں میں کھو گئے ہم نے تو زندگی کا لگایا سراغ ...

مزید پڑھیے

کچھ ان کی جفا ان کا ستم یاد نہیں ہے

کچھ ان کی جفا ان کا ستم یاد نہیں ہے غمگین ہوں لیکن کوئی غم یاد نہیں ہے دلدادۂ اصنام ہے فطرت مری لیکن تھا ساتھ کبھی کوئی صنم یاد نہیں ہے اپنوں کی عنایات کا ممنون ہوں ایسا غیروں کا مجھے کوئی ستم یاد نہیں ہے پایا ہے نشاں جب سے تری راہ گزر کا کیسی ہے رہ دیر و حرم یاد نہیں ہے لایا ہے ...

مزید پڑھیے

ہے داغ داغ مرا دل مگر ملول نہیں

ہے داغ داغ مرا دل مگر ملول نہیں تمام عمر کا رونا مجھے قبول نہیں وہ گفتگو جو نگاہوں سے ہوتی رہتی ہے حدیث نرگس مستانہ ہے فضول نہیں بہت سے پھول ہیں دامن میں آپ کے لیکن جسے ہم اپنا کہیں ایسا کوئی پھول نہیں وہ ایک بت جسے کہتے ہیں شاہکار جمیل صنم کدے کا خدا ہے مگر رسول نہیں سراغ ...

مزید پڑھیے

ذوق پرواز میں ثابت ہوا سیاروں سے

ذوق پرواز میں ثابت ہوا سیاروں سے آسماں زیر زمیں ہے مری یلغاروں سے کیسے قاتل ہیں جنہیں پاس وفا ہے نہ جفا قتل کرتے ہیں تو اغیار کی تلواروں سے رہ کے ساحل پہ ہو کس طرح کسی کو معلوم کشتیاں کیسے نکل آتی ہیں منجدھاروں سے گل ہوئے جاتے ہیں جلتے ہوئے دیرینہ چراغ آئینہ خانوں کی گرتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

جلا کے دامن ہستی کا تار تار اٹھا

جلا کے دامن ہستی کا تار تار اٹھا کبھی جو نالۂ غم دل سے شعلہ بار اٹھا خیال و فکر و تمنا کا خون چھپ نہ سکا زباں خموش تھی لیکن لہو پکار اٹھا فلک پہ جب بھی حقائق کی سرخیاں ابھریں زمیں سے کہنہ روایات کا غبار اٹھا رواں دواں ہے رگ سنگ میں لہو کی طرح وہ زندگی کا تلاطم جو بار بار اٹھا رہ ...

مزید پڑھیے

چھپکلی

حجلۂ تاریک میں پائی ہے اس نے پرورش شمع جلتے ہی در و دیوار پر لے کے مٹیالا سا کاہیدہ بدن جھومتی سر مست آ جاتی ہے یہ پا بجولاں چند پروانوں کے پاس غوطہ زن پاتے ہی جن کو آبشار نور میں تیز چمکیلی نکیلی آنکھ سے یوں دیکھتی ہے بار بار جیسے اک سرمایہ دار مال و زر کی اوٹ سے کرتا ہے مفلس کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4240 سے 5858