شاعری

جب تمنائیں مسکراتی ہیں

جب تمنائیں مسکراتی ہیں پھول بنتی ہیں اور مہکتی ہیں کوئی چپکے سے میرے سینے میں صبح کا نور گھول جاتا ہے کھڑکیاں دل کی کھول جاتا ہے صاف شفاف سے دریچوں میں رقص کرتا ہے ماہتاب کوئی دل کی گہرائیوں میں گرتے ہی ڈوب جاتا ہے آفتاب کوئی چاند آتا ہے چاندنی لے کر جھک کے تارے سلام کرتے ...

مزید پڑھیے

افسانۂ شب رنگ

عارض گل پہ لرزتی ہوئی بیکل شبنم منتظر ہے کہ چلے باد سحر کوئی جھونکا کوئی سورج کی کرن پاس آ جائے تو افسانہ شب رنگ سنے نغمۂ زہرہ و ناہید کی جھنکار سنے بربط سلمیٰ کے تاروں کی صدائے دل کش آبشاروں کی ندا خارزاروں کی صدا پھول کے دل کی جلن سوزش مہتاب کا حال ڈوبتے تاروں کے خاموش نگاہوں ...

مزید پڑھیے

یقین

چاپ قدموں کی سنو رات کے تارے نہ گنو کوئی آئے گا بہ ہر حال ضرور آئے گا اپنی آنکھوں میں چھپائے ہوئے سپنے کل کے لے کے تابندہ نگاہوں کا غرور آئے گا یاس و حرماں کے اندھیروں میں ستارے بھر دو دل کے خوابیدہ دریچوں سے کہو آنکھ ملیں باد صرصر سے کہو جا کے چلے اور کہیں خواب فردا کے در و بام پہ ...

مزید پڑھیے

نہ سارے عیب ہیں عیب اور ہنر ہنر بھی نہیں

نہ سارے عیب ہیں عیب اور ہنر ہنر بھی نہیں کچھ احتیاط تو کیجے پر اس قدر بھی نہیں تمہارے ہجر میں باندھا ہے وہ سماں ہم نے کہ آنکھ ہم سے ملاتا ہے نوحہ گر بھی نہیں نہیں ذرا بھی تو اس نے نہیں ملایا رخ میں اس کو دیکھ رہا تھا یہ جان کر بھی نہیں یہ ہم نے بھول کی آ پہنچے ان کی محفل میں پر ان ...

مزید پڑھیے

آپ کو اجلا دکھے کالا دکھے

آپ کو اجلا دکھے کالا دکھے سچ تو سچ ہے چاہے وہ جیسا دکھے زلف جاناں دیدۂ نم درد دل ان سے باہر آئیں تو دنیا دکھے آنکھ کے اندھے کو پھر بھی عقل ہے عقل کے اندھے کو سب الٹا دکھے مجھ کو اپنے آپ سا لگتا ہے وہ راہ چلتے جب کوئی روتا دکھے ہوں پشیماں میں گنہ گار اپنا منہ پھیر لیتا ہوں جو ...

مزید پڑھیے

زندگی دوڑتی ہے سڑکوں پر

زندگی دوڑتی ہے سڑکوں پر اور پھر موت بھی ہے سڑکوں پر دن دہاڑے پڑا ہے اک زخمی کیا عجب تیرگی ہے سڑکوں پر لوگ بس بے دلی سے چلتے ہیں یعنی بے چارگی ہے سڑکوں پر عمر گھر میں تو اس کی کم گزری اور زیادہ کٹی ہے سڑکوں پر مفلسی کیسی کیسی شکلوں میں تو بھی اکثر ملی ہے سڑکوں پر چلتے ہم تم بھی ...

مزید پڑھیے

تو جہاں میں چار دن مہمان ہے

تو جہاں میں چار دن مہمان ہے اس کے آگے اور ہی سامان ہے آدمی اک خاک کا پتلا ہے بس جسم میں رنگت ہے جب تک جان ہے کالا گورا اونچا‌ نیچا جو بھی ہو آدمی وہ ہے کہ جو انسان ہے گر جہنم کی حقیقت جان لو راہ جنت کی بہت آسان ہے کچھ ترے اعمال ہی اچھے نہ تھے اپنی بربادی پہ کیوں حیران ہے کچھ ...

مزید پڑھیے

باز دل یاد سے ان کی نہ ذرا بھر آیا

باز دل یاد سے ان کی نہ ذرا بھر آیا وہ نہ آیا تو خیال ان کا برابر آیا ساقیا درد بھرا ہی رہا پیمانۂ چشم سو تری بات پہ چھلکا جو ذرا بھر آیا آہ وہ شدت غم ہے کہ مری آنکھوں سے بوند دو بوند نہیں ایک سمندر آیا جس سے بچنے کے لئے بند کیں آنکھیں ہم نے بند آنکھوں پہ بھی آگے وہی منظر آیا یہ ...

مزید پڑھیے

چھیڑ دیں گر قصۂ غم شام سے

چھیڑ دیں گر قصۂ غم شام سے کہ رہیں گے صبح تک آرام سے چاہیے ہم کو کہ بیداری رہے آشنا ہوں حشر سے انجام سے جو بلاتا تھا وہ شخص اب جا چکا کام اپنا دیکھیے آرام سے پا گئے ہم بے گناہی کی سزا بچ گئے سو بار کے الزام سے کٹ رہی ہے زندگی اب دشت میں ہم کو کیا مطلب رہا حکام سے کیا خبر تجھ کو کہ ...

مزید پڑھیے

شجر گہرے زمینوں میں گڑے ہیں

شجر گہرے زمینوں میں گڑے ہیں تو کیوں ہلکی ہوا میں کانپتے ہیں چلو اس موڑ سے واپس چلیں ہم اب آگے مختلف رستے بنے ہیں ہمیں یہ دکھ نہیں ہے خود کو کھویا یہ غم ہے ہم اسے بھی کھو چکے ہیں ہمارے خواب بھی اپنے کہاں ہیں کسی کی یاد نے آ کر بنے ہیں جب اس کو بھول بیٹھی ہوں میں فرحتؔ تو پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4239 سے 5858