شاعری

دیکھا پلٹ کے جب بھی تو پھیلا غبار تھا

دیکھا پلٹ کے جب بھی تو پھیلا غبار تھا کچھ آنسوؤں کی دھند تھی اجڑا دیار تھا یادوں کے آئنہ میں ہیں اب بھی بسی ہوئی آنکھیں کہ جن میں منجمد اک انتظار تھا رشتوں کی ڈور ہاتھ سے چھوٹی تھی اس لیے دامن جو بد گمانیوں سے تار تار تھا کیسی تھی مے جو آنکھ سے تو نے پلائی تھی میری رگوں میں آج ...

مزید پڑھیے

مرے ہم رقص سائے کو بالآخر یونہی ڈھلنا تھا

مرے ہم رقص سائے کو بالآخر یونہی ڈھلنا تھا کوئی موسم نہیں رکتا سو موسم کو بدلنا تھا تقاضا مصلحت کا تھا ہوا سے دوستی کر لیں چراغوں کو اجالے تک یونہی ہر طور جلنا تھا اسے تو یہ اجازت تھی وہ جب چاہے پلٹ جائے سفر میرا تو باقی تھا مجھے تو یونہی چلنا تھا تلاطم میں بہا کر جو مری ہستی کو ...

مزید پڑھیے

کبھی تم بھیگنے آنا مری آنکھوں کے موسم میں

کبھی تم بھیگنے آنا مری آنکھوں کے موسم میں بنانا مجھ کو دیوانہ مری آنکھوں کے موسم میں برستا بھیگتا ہو جب کوئی لمحہ نگاہوں میں وہیں تم بھی ٹھہر جانا مری آنکھوں کے موسم میں کئی موسم گزارے ہیں انہوں نے دھوپ چھاؤں کے نیا موسم کوئی لانا مری آنکھوں کے موسم میں سنہری دھوپ پھیلی ہو ...

مزید پڑھیے

راکھ اڑتی ہوئی بالوں میں نظر آتی ہے

راکھ اڑتی ہوئی بالوں میں نظر آتی ہے عمر گزرے ہوئے سالوں میں نظر آتی ہے جب بھی کھولا ہے یہ ماضی کا دریچہ میں نے کوئی تصویر خیالوں میں نظر آتی ہے شام کے ساتھ جو جادو ہو نگاہوں کا تری شام ویسی مرے گالوں میں نظر آتی ہے بستی دل میں جہاں روز تھا ہنگامہ نیا وہ بھی اجڑے ہوئے حالوں میں ...

مزید پڑھیے

کہیں ہم کیا کسی سے دل کی ویرانی نہیں جاتی

کہیں ہم کیا کسی سے دل کی ویرانی نہیں جاتی ہماری زندگی بھی ہم سے پہچانی نہیں جاتی بظاہر ایسا لگتا ہے سبھی ہیں مست دنیا میں مگر چہروں سے پوشیدہ پریشانی نہیں جاتی روا داری کی چادر سے کہاں تک خود کو ڈھاپیں گے کہ اس کم ظرف دنیا میں تو یہ تانی نہیں جاتی بہت سمجھا لیا دل کو بچھڑنا تو ...

مزید پڑھیے

مدتوں ہم سے ملاقات نہیں کرتے ہیں

مدتوں ہم سے ملاقات نہیں کرتے ہیں اب تو سائے بھی کوئی بات نہیں کرتے ہیں دشت حیراں کا پتہ آج بھی معلوم نہیں اب تو راہوں میں بھی ہم رات نہیں کرتے ہیں معبدوں میں جو جلاتے تھے دیے میرے لیے اب سر شام مناجات نہیں کرتے ہیں بانٹ دیتے ہیں سبھی خواب سہانے اپنے دامن درد سے خیرات نہیں کرتے ...

مزید پڑھیے

یہ اجالے سے کراں تا بہ کراں کیسے ہیں

یہ اجالے سے کراں تا بہ کراں کیسے ہیں تیرے آنے کے مرے دل میں گماں کیسے ہیں فرط حیرت سے یہ آئینہ انہیں دیکھتا ہے ایک چہرے میں کئی چہرے نہاں کیسے ہیں کوئی شیشہ ہے کہ پتھر ہے کہ سپنا کوئی جو نہ پہچان سکیں شیشہ گراں کیسے ہیں تیرے رستے سے جدا تھا مرا رستہ لیکن تیرے دل پر مرے قدموں کے ...

مزید پڑھیے

کہیں یقیں سے نہ ہو جائیں ہم گماں کی طرح

کہیں یقیں سے نہ ہو جائیں ہم گماں کی طرح سنبھال کر ہمیں رکھیے متاع جاں کی طرح جسے صدف کی طرح آنکھ میں چھپایا تھا وہ کھو نہ جائے کہیں اشک رائیگاں کی طرح ہمیں بھی خوف تلاطم نے گھیر رکھا تھا کھلا نہیں تھا ابھی وہ بھی بادباں کی طرح نصاب عشق میں سارے سوال مشکل تھے محبتیں بھی تھیں ...

مزید پڑھیے

ایک مدت سے یہاں ٹھہرا ہوا پانی ہے

ایک مدت سے یہاں ٹھہرا ہوا پانی ہے دشت تنہائی ہے اور آنکھ میں ویرانی ہے دیکھو خاموش سی جھیلوں کے کنارے اب بھی سوگ میں لپٹے درختوں کی فراوانی ہے آئنہ دیکھنے کی تاب کہاں تھی مجھ میں صاف لکھی تھی جو چہرے پہ پشیمانی ہے دشت وحشت میں چراغوں کو جلاؤں کیسے ان چراغوں سے ہواؤں کو ...

مزید پڑھیے

تمنا تھی جو آنکھوں میں وہی لہجے میں رکھ دینا

تمنا تھی جو آنکھوں میں وہی لہجے میں رکھ دینا میں آؤں تو امیدوں کا دیا رستے میں رکھ دینا سمیٹو گے کبھی چادر جو تم عمر گریزاں کی بس اک خوشبو بھرا لہجہ مرے حصے میں رکھ دینا سنبھالا ہے جسے دل کے نہاں خانوں میں برسوں سے محبت کا وہی سکہ مرے کاسے میں رکھ دینا چلو ملتے ہیں جنموں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4223 سے 5858