شاعری

کیا بات تھی کہ اس کو سنورنے نہیں دیا

کیا بات تھی کہ اس کو سنورنے نہیں دیا آئینہ ہاتھ میں تھا نکھرنے نہیں دیا طوفان میں پھنسے تو کنارے تک آ گئے ساحل نے ان کو پھر بھی ابھرنے نہیں دیا اس دور پر فتن میں سلیقے سے ٹوٹ کر ٹوٹے تو روز ہی پہ بکھرنے نہیں دیا ہم نے امیر شہر کو سجدہ نہیں کیا خودداریٔ مزاج نے گرنے نہیں دیا رد ...

مزید پڑھیے

بادشاہ وقت کوئی اور کوئی مجبور کیوں

بادشاہ وقت کوئی اور کوئی مجبور کیوں بن گیا ہے اک زمانے کا یہی دستور کیوں ہے بقا کے ساتھ تو نام فنا بھی لازمی آپ اتنی بے ثباتی پر ہوئے مغرور کیوں دھوپ میں پانی میں سردی میں ہوا کے ساتھ ساتھ جان اپنی دے رہا ہے آج بھی مزدور کیوں یہ تو دنیا ہے نہ بدلی ہے نہ بدلے گی کبھی غور کرنے کے ...

مزید پڑھیے

زندگی سادہ ورق پر اک حسیں تحریر ہے

زندگی سادہ ورق پر اک حسیں تحریر ہے اور یہ دنیا اسی تحریر کی تفسیر ہے حق بہ جانب صرف ہم ہیں دوسرا کوئی نہیں خود پسندی کی یہی ادنیٰ سی اک تصویر ہے یہ بھی انداز تغافل اور تلون کی دلیل جو بہت پیارا تھا اب وہ لائق تعزیر ہے راہبر ملتے ہیں لیکن راہ دکھلاتے نہیں منزلوں پر جو پہنچ جائے ...

مزید پڑھیے

ہاتھ میں اپنے ابھی تک ایک ساغر ہی تو ہے

ہاتھ میں اپنے ابھی تک ایک ساغر ہی تو ہے جس کو سب کہتے ہیں مے خانہ وہ اندر ہی تو ہے دام میں طائر کو لے جاتی ہے دانے کی تلاش پھر بھی مظلومی و محرومی مقدر ہی تو ہے کیسی کیسی کوششیں کر لیں میان جنگ بھی مرد میداں جو بنا ہے وہ سکندر ہی تو ہے اپنے خالق کی عطا پر ناز ہونا چاہئے جو حسد ...

مزید پڑھیے

دل میں اس کا خیال کیوں آیا

دل میں اس کا خیال کیوں آیا موسم برشگال کیوں آیا وہ جو ہنستا تھا اس کے چہرے پر آج رنگ ملال کیوں آیا نام سے میرے جس کو نفرت تھی پوچھنے میرا حال کیوں آیا ناز تھا کس لئے بہاروں پر یہ بتا دے زوال کیوں آیا جس کو شکوہ تھا بد خصالوں سے پھر وہی خوش خصال کیوں آیا سن رہے ہیں کہ پھر نوازش ...

مزید پڑھیے

ہجر اور وصال

ہوک اٹھتی ہے جلا دیتی ہے جسم و جاں کو دل لرز اٹھتا ہے آنکھوں سے دھواں اٹھتا ہے یہ دھواں ہجر کا تاریک دھواں پھیلتا جاتا ہے بھر دیتا ہے اس وادی کو جس کے ہر گوشے میں اک نقش منور تھا ابھی کوئی سایہ کوئی خوشبو سے مہکتا سایہ مجھ کو چھوتا تھا مرے دل میں اترتا تھا ابھی پیرہن میرا مہکتا ...

مزید پڑھیے

اپنا اپنا شہر

ہمارے دلوں میں کچھ ڈوبتا جا رہا ہے میرے اور تمہارے وہ کیا ہے کیا ہم اس کے بھید پا سکتے ہیں کہرے کی سرد چادر نے جنگل کو اپنے سائے میں لے لیا ہے کوئی آواز نہیں صرف ایک گہری مہک کوئی میرے دل میں لوبان کی دھونی دیتا ہے اور آنکھیں جلنے لگتی ہیں ہم دھارے کے مقابل نہیں تیر سکتے اور دھارے ...

مزید پڑھیے

غبار تنگ ذہنی صورت خنجر نکلتا ہے

غبار تنگ ذہنی صورت خنجر نکلتا ہے ہماری بستیوں سے روز اک لشکر نکلتا ہے خدا جانے کہاں اس کی رفاقت ہو گئی زخمی کہ شب میں اک پرندہ چیختا اکثر نکلتا ہے متاع چشم حیراں کے سوا اب کچھ نہیں باقی دل آتش گرفتہ کا یہی جوہر نکلتا ہے لہو پی کر زمیں جب بھی نئی کروٹ بدلتی ہے کسی کا سر نکلتا ہے ...

مزید پڑھیے

جو تو نہیں ہے تو لگتا ہے اب کہ تو کیا ہے

جو تو نہیں ہے تو لگتا ہے اب کہ تو کیا ہے تمام عالم وحشت یہ چار سو کیا ہے کسی کی یاد میں آنکھیں چھلکتی رہتی ہیں تو اور مسلک عشاق میں وضو کیا ہے اداس کر گیا یہ کون مسند گل کو یہ شور و شین ہے کیسا یہ ہا و ہو کیا ہے ترے حضور بھی اپنے ہی مسئلوں میں رہے سمجھ نہ پائے کہ آنکھوں کے روبرو ...

مزید پڑھیے

پیار جادو ہے کسی دل میں اتر جائے گا

پیار جادو ہے کسی دل میں اتر جائے گا حسن اک خواب ہے اور خواب بکھر جائے گا اپنی آنکھوں کو ذرا حد ادب میں رکھنا ورنہ دھوکے میں کوئی جاں سے گزر جائے گا اب کسی اور کا تم ذکر نہ کرنا مجھ سے ورنہ اک خواب جو آنکھوں میں ہے مر جائے گا آئینہ ٹوٹے ہوئے دل کا دکھا دوں میں اگر بے وفا خود ترا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4213 سے 5858