شاعری

جلی ہیں درد کی شمعیں مگر اندھیرا ہے

جلی ہیں درد کی شمعیں مگر اندھیرا ہے کہاں ہو کچھ تو کہو دل بہت اکیلا ہے یہ کیسا زہر فضاؤں میں بھر گیا یارو ہر ایک آدمی کیوں اس قدر اکیلا ہے مرے نصیب میں کب ہے یہ روشنی کا نگر مرے لیے تو یہاں ہر طرف اندھیرا ہے جلائے رکھنا دیے پیار کے میں آؤں گا مجھے تمہاری وفا پر بڑا بھروسہ ...

مزید پڑھیے

کیسے ان سچے جذبوں کی اب اس تک تفہیم کروں

کیسے ان سچے جذبوں کی اب اس تک تفہیم کروں روٹھنے والا گھر آئے تو لفظوں میں ترمیم کروں مجھ سے بچھڑ کر جانے والے اتنا تو سمجھاتا جا اپنے آپ کو دو حصوں میں کیسے میں تقسیم کروں اہل سیاست بانٹ رہے ہیں جان سے پیارے لوگوں کو میں شاعر ہوں سچ کہتا ہوں کیوں ان کی تعظیم کروں وہ بھی زمانہ ...

مزید پڑھیے

اس زمیں آسماں کے تھے ہی نہیں

اس زمیں آسماں کے تھے ہی نہیں رابطے درمیاں کے تھے ہی نہیں ہم سے مٹی مہک گئی کیسے ہم تو اس خاکداں کے تھے ہی نہیں کیسے کرتے رقم حدیث دل واقعے سب بیاں کے تھے ہی نہیں ہم وہ کردار کیسے بن جاتے جب تری داستاں کے تھے ہی نہیں ان سے تہذیب کی توقع تھی وہ جو اردو زباں کے تھے ہی نہیں

مزید پڑھیے

مشورہ کس نے دیا تھا کہ مسیحائی کر

مشورہ کس نے دیا تھا کہ مسیحائی کر زخم کھانے ہیں تو لوگوں سے شناسائی کر جیب خالی ہے تو کیا دل سے دعائیں دیں گے ہم سے درویشوں کی نادان پذیرائی کر پھر نظر آئے گی آسان یہ دنیا تجھ کو آنکھ سے دیکھ مگر دل کو تماشائی کر گھر میں ممکن ہے مگر دل میں نہ دیوار اٹھا فیصلہ سوچ سمجھ کر یہ میرے ...

مزید پڑھیے

اک پل کہیں رکے تھے سفر یاد آ گیا

اک پل کہیں رکے تھے سفر یاد آ گیا پھولوں کو ہنستا دیکھ کے گھر یاد آ گیا تتلی کے ساتھ آئی تری یاد بھی ہمیں رکھا ہوا کتاب میں پر یاد آ گیا بیٹھے تھے جس کی چھاؤں میں ہم دونوں مدتوں کیا جانے آج کیوں وہ شجر یاد آ گیا سرحد سے کوئی آیا ہے پھر خون مانگنے اک ماں کو اپنا لخت جگر یاد آ ...

مزید پڑھیے

خدا کرے کہ یہ مٹی بکھر بھی جائے اب

خدا کرے کہ یہ مٹی بکھر بھی جائے اب چڑھا ہوا ہے جو دریا اتر بھی جائے اب یہ روز روز کا ملنا بچھڑنا کھلتا ہے وہ میری روح کے اندر اتر بھی جائے اب وہاں وہ پھول سا چہرہ ہے منتظر اس کا کہو یہ شاعر آوارہ گھر بھی جائے اب میں اپنے آپ کو کب تک یونہی سمیٹے پھروں چلے وہ آندھی کہ سب کچھ بکھر ...

مزید پڑھیے

بچھڑنا مجھ سے تو خوابوں میں سلسلہ رکھنا

بچھڑنا مجھ سے تو خوابوں میں سلسلہ رکھنا دیار ذہن میں دل کا دیا جلا رکھنا پلٹ کے آئیں گے موسم تو تم کو لکھوں گا کتاب دل کا ورق تم ذرا کھلا رکھنا میں چاہتا ہوں وہ آنکھیں جو روز ملتی ہیں کبھی تو مجھ سے کہیں ہم پہ آسرا رکھنا بدن کی آگ سے جھلسے نہ جسم روحوں کا قریب آ کے بھی تم مجھ سے ...

مزید پڑھیے

عورت

حرف معصوم تھے محکوم تھے محصور بھی تھے لفظ مصلوب ہوئے ہونٹوں پہ آ کے تیرے تجھ کو انعام ملا تو کہ ایثار تھی جھنکار تھی مہکار بھی تھی مدتوں جہل کے تاریک شبستانوں میں زندہ درگور ہوئی اور جلائی بھی گئی تو کہ ہر روپ میں ہی بے بس و مجبور رہی پھر بھی تحسین کے لائق ہے تیرا عزم جواں تو نے ...

مزید پڑھیے

کہر کے اس پار

کہر کے پار اور دور کہیں کہکشاؤں کی پیار بستی میں چاند تاروں کی پھیلی دنیا میں بادلوں کے رواں جزیروں میں کون ہوگا جو رہ رہا ہوگا گرچہ کچھ بھی نظر نہیں آتا ہمیں پھر بھی تلاش کرنا ہے جو کہ تیری حسین آنکھوں میں جو کہ میرے بھی قلب مضطر میں روز جیتا ہے روز مرتا ہے وہی احساس کا گھنا ...

مزید پڑھیے

بھول

نادانی میں کیسے کیسے خواب سہانے دیکھے تھے میں سمجھی تھی چاہت کے یہ ناطے جاناں سب رشتوں سے افضل ہوں گے ہاں لیکن وہ خواب تھا ایسا جس کی تو تعبیر نہیں تھا جیون کی تفسیر نہیں تھا

مزید پڑھیے
صفحہ 4201 سے 5858