شاعری

شہر دوست

وہ شہر دوست بھی رخصت ہوا کہ جس نے سدا ہمارے دل میں کھلائے تھے چاہتوں کے گلاب خمار باقی ہے اب تک ہماری آنکھوں میں حسین لمحوں کا جو اس کے دم سے روشن تھے تمہارے بعد بھی آئیں گے یوں تو سب موسم بہت ستائیں گے لیکن ہر ایک موقعہ پر جو ہوتے تم تو یہ کام اس طرح کرتے کریں گے یاد تمہیں ہم کئی ...

مزید پڑھیے

جگنوؤں کا حرف میری آنکھ میں اترا نہ تھا

جگنوؤں کا حرف میری آنکھ میں اترا نہ تھا رات کا اندھا سفر تھا پاؤں میں رستہ نہ تھا زرد لمحوں کی تھکن میں آنگنوں کی آس تھی رات تھی جنگل کی سر پر چاند بھی نکلا نہ تھا آج تنہائی کے اجڑے موڑ پر ٹھٹکا ہوا سوچتا ہوں میں نے اس کو ٹوٹ کر چاہا نہ تھا اس کے آئینے سے جس دم رات کا پہرہ اٹھا بے ...

مزید پڑھیے

نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جان ناتواں میری

نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جان ناتواں میری تصور میں بھی آ سکتیں نہیں مجبوریاں میری نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شب وعدہ دل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری یہ منزل یہ حسیں منزل جوانی نام ہے جس ...

مزید پڑھیے

مستوں کے جو اصول ہیں ان کو نبھا کے پی

مستوں کے جو اصول ہیں ان کو نبھا کے پی اک بوند بھی نہ کل کے لیے تو بچا کے پی کیوں کر رہا ہے کالی گھٹاؤں کے انتظار ان کی سیاہ زلف پہ نظریں جما کے پی چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی فیاضؔ تو نیا ہے نہ پی بات مان لے کڑوی بہت شراب ہے پانی ملا ...

مزید پڑھیے

پہلی سی مجھ پہ چشم عنایت نہیں رہی

پہلی سی مجھ پہ چشم عنایت نہیں رہی شاید اب اس کو میری ضرورت نہیں رہی بے وجہ کاٹ دیتا ہے میری ہر ایک بات اس کی نظر میں اب مری قیمت نہیں رہی مجھ سے گریز کرنے لگا جب سے میرا یار مجھ کو بھی اس سے ملنے کی عجلت نہیں رہی وہ بے وفا نہیں یہ مجھے ہے یقیں مگر اب اعتبار کرنے کی ہمت نہیں ...

مزید پڑھیے

ریزہ ریزہ سا بھلا مجھ میں بکھرتا کیا ہے

ریزہ ریزہ سا بھلا مجھ میں بکھرتا کیا ہے اب ترا غم بھی نہیں ہے تو یہ قصہ کیا ہے کیوں سجا لیتا ہے پلکوں پہ یہ اشکوں کے چراغ اے ہوا کچھ تو بتا پھول سے رشتہ کیا ہے اس نے مانگا ہے دعاؤں میں خدا سے مجھ کو اور میں چپ ہوں بھلا اس نے بھی مانگا کیا ہے شعر گوئی سے کہیں مسئلے حل ہوتے ...

مزید پڑھیے

جیسی خواہش ہوتی ہے کب ہوتا ہے

جیسی خواہش ہوتی ہے کب ہوتا ہے چھوڑو بھی اب یار چلو سب ہوتا ہے ہم بے کار ہی سہمے سہمے رہتے ہیں جو ہونا ہوتا ہے جب جب ہوتا ہے میری بوڑھی دادی اکثر کہتی تھیں کوئی نہیں ہوتا جس کا رب ہوتا ہے دل بستی کو اجڑے برسوں بیت گئے یاد چراغاں اب بھی ہر شب ہوتا ہے سارے شاعر شعر کہاں کہہ پاتے ...

مزید پڑھیے

اس کے ہونٹوں پہ بد دعا بھی نہیں

اس کے ہونٹوں پہ بد دعا بھی نہیں اب مرے واسطے سزا بھی نہیں لفظ خاموشیوں کا پردہ ہیں بولتا ہے وہ بولتا بھی نہیں میں نے پھولوں کو کھلتے دیکھا ہے اس نے ہونٹوں سے کچھ کہا بھی نہیں ایک مدت سے ساتھ ہوں اپنے اور میں خود کو جانتا بھی نہیں حادثے عام ہو گئے اتنے مڑ کے اب کوئی دیکھتا بھی ...

مزید پڑھیے

یہ سودا عشق کا آسان سا ہے

یہ سودا عشق کا آسان سا ہے ذرا بس جان کا نقصان سا ہے بہا کر لے گیا ہوش و خرد کو یہ سیل عشق بھی طوفان سا ہے وہی جو سب کے غم میں گھل رہا ہے ہمارے حال سے انجان سا ہے خدا اس کو زمانے سے بچائے ابھی یہ آدمی انسان سا ہے

مزید پڑھیے

مہکتے لفظوں میں شامل ہے رنگ و بو کس کی

مہکتے لفظوں میں شامل ہے رنگ و بو کس کی یہ میرے شعروں میں ہوتی ہے گفتگو کس کی وہ دل کی آگ تو یا رب کبھی کی سرد ہوئی مگر ان آنکھوں کو اب بھی ہے جستجو کس کی مرا وجود تو اب تک سہی سلامت ہے ہوا میں خاک یہ اڑتی ہے کو بہ کو کس کی اگر وہ لوٹ کے آیا نہیں تو بتلانا یہ خوشبو پھیلی ہے آنگن میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4200 سے 5858