شاعری

یا تو تاریخ کی عظمت سے لپٹ کر سو جا

یا تو تاریخ کی عظمت سے لپٹ کر سو جا یا کسی ٹوٹے ہوئے بت سے چمٹ کر سو جا ننھا بچہ ہے تو آ ماں کے گھنے آنچل میں رات کی چھلنی سڑک ہی سے لپٹ کر سو جا ہر گھڑی شور مچاتی ہوئی مخلوق کے بیچ اپنے ہونے کے یقیں سے ذرا ہٹ کر سو جا نیند اڑنے کا مزہ تو بھی چکھا دے ان کو چال مکار ستاروں کی الٹ کر ...

مزید پڑھیے

وہ نہ آئے گا یہاں وہ نہیں آنے والا

وہ نہ آئے گا یہاں وہ نہیں آنے والا مجھ کو تنہائی کا احساس دلانے والا کیا خبر تھی کہ ترس جائے گا تعبیروں کو اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجانے والا اپنی تدبیر کے انجام سے ناواقف ہے حال تقدیر کا اوروں کو بتانے والا میری رگ رگ میں لہو بن کے رواں ہو جیسے میرے سائے سے بھی دامن کو بچانے ...

مزید پڑھیے

وہ خود اپنا دامن بڑھانے لگے

وہ خود اپنا دامن بڑھانے لگے چلو آج آنسو ٹھکانے لگے ہمارا برا وقت جب ٹل گیا پھر احباب ملنے ملانے لگے تری برہمی میں بھی جان وفا نوازش کے انداز آنے لگے مداوائے غم کچھ تو کرنا ہی تھا مصیبت پڑی گنگنانے لگے مزا دے گیا یار دور فراق ہمیں تو یہ دن بھی سہانے لگے محبت سے توفیق اظہار ...

مزید پڑھیے

تمام شہر میں اس جیسا خستہ حال نہ تھا

تمام شہر میں اس جیسا خستہ حال نہ تھا مگر وہ شخص کہ پھر بھی کوئی ملال نہ تھا یہ اور بات میں اپنی انا میں قید رہا وگرنہ اس کا پگھلنا تو کچھ محال نہ تھا بچھڑ گیا ہے تو یہ کہہ کے دل کو بہلاؤں وجود اس کا مرے حق میں نیک فال نہ تھا سمجھ رہا تھا محافظ جسے میں برسوں سے مجھی کو قتل کرے گا یہ ...

مزید پڑھیے

جب ہم پہلی بار ملے تھے

جب ہم پہلی بار ملے تھے موسم کتنا اجلا تھا میں تھا اک آزاد پرندہ نیل گگن میں اڑنے والا تم بھی اتنے عمر رسیدہ کب تھے بالوں میں یہ چاندی کب تھی لہجے میں کھنک آنکھوں میں چمک تھی بات بات پر زور سے ہنسنا عادت میں بھی شامل تھا سب کے دکھ سکھ کا حصہ بن جانا فطرت میں بھی شامل تھا لیکن اب ایسا ...

مزید پڑھیے

وہ چاند چہرہ سی ایک لڑکی

وہ چاند چہرہ سی ایک لڑکی محبتوں کی مثال جیسے ذہن میں شاعر کے جیسے آئے حسیں غزل کا خیال کوئی وہ چاند چہرہ سی ایک لڑکی کسی جنم میں وہ ماں تھی میری کسی جنم میں بہن بنی تھی مگر وہ اب کے بنی ہے ہمدم تمام رشتے نبھا رہی ہے مجھے بھی جینا سکھا رہی ہے وہ چاند چہرہ سی ایک لڑکی

مزید پڑھیے

وہ بستی یاد آتی ہے

وہ بستی یاد آتی ہے وہ چہرے یاد آتے ہیں وہاں گزرا ہوا اک ایک پل یوں جگمگاتا ہے اندھیری رات میں اونچے کلس مندر کے جیسے جھلملاتے ہیں وہاں بستی کے اس کونے میں وہ چھوٹی سی اک مسجد کہ جس کے صحن میں مرے اجداد کی پیشانیوں کے ہیں نشاں اب تک اسی کے پاس تھوڑی دور پر بہتی ہوئی گنگا مجھے اب بھی ...

مزید پڑھیے

ذرا سی دیر میں

ذرا سی دیر لگتی ہے ذرا سی دیر میں یوں سارا منظر ایک دم تبدیل ہوتا ہے بکھر جاتے ہیں سارے خواب جیسے تاش کے پتے کھنکتے قہقہے تبدیل ہو جاتے ہیں آہوں میں ذرا سی دیر میں یوں سارا منظر ایک دم تبدیل ہوتا ہے

مزید پڑھیے

شکایت

یہ تم نے کیا لکھا میں نے تمہیں دل سے بھلا ڈالا تمہیں تو یاد ہوگا بچھڑتے وقت تم نے ہی کہا تھا اگر تم چاہتے ہو یہ تمہارے اور میرے درمیاں یہ رشتہ عمر بھر یونہی رہے قائم تو ان لفظوں سے یونہی دوستی رکھنا کبھی فرصت ملے تو آؤ اور دیکھو میں اب بھی لفظ لکھتا ہوں میں ان لفظوں میں جیتا اور ...

مزید پڑھیے

کبھی آؤ

مرے بالوں میں چاندی کھل رہی ہے مرے لہجے میں میٹھا رس گھلا ہے تمہارا نام آتے ہی مگر اب بھی دل بے تاب ویسے ہی دھڑکتا ہے کبھی جیسے تمہارے قرب کے موسم مرے چھوٹے سے کمرے میں اسی صورت مہکتے تھے عجب کچھ رنگ بھرتے تھے وہ موسم سارے موسم آج بھی اس دل کے اک چھوٹے سے کونے میں اسی صورت مہکتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4199 سے 5858