یا تو تاریخ کی عظمت سے لپٹ کر سو جا
یا تو تاریخ کی عظمت سے لپٹ کر سو جا یا کسی ٹوٹے ہوئے بت سے چمٹ کر سو جا ننھا بچہ ہے تو آ ماں کے گھنے آنچل میں رات کی چھلنی سڑک ہی سے لپٹ کر سو جا ہر گھڑی شور مچاتی ہوئی مخلوق کے بیچ اپنے ہونے کے یقیں سے ذرا ہٹ کر سو جا نیند اڑنے کا مزہ تو بھی چکھا دے ان کو چال مکار ستاروں کی الٹ کر ...