شاعری

رنج و حزن و ملال نہ سائیں

رنج و حزن و ملال نہ سائیں کوئی میرا کمال نہ سائیں اک ترے بعد ہو مرے دل میں اور کوئی خیال نہ سائیں بخت میں ہے تری نظر تو پھر بخت میں ہو زوال نہ سائیں بادشاہا تری ہے سرداری میں کروں گی سوال نہ سائیں ہے یقیں آپ لوٹ آئیں گے کب رہا احتمال نہ سائیں اب ربابؔ عادت اذیت ہے میں رہوں اور ...

مزید پڑھیے

تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو

تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو دیکھ کر مجھ کو گزر جاتے ہو حد کرتے ہو نین تو یوں ہی تمہارے ہیں بلا کے قاتل اس پہ تم روز سنور جاتے ہو حد کرتے ہو میری آنکھوں سے بھی آنسو نہیں گرنے پاتے میری آنکھوں میں ٹھہر جاتے ہو حد کرتے ہو میرے جذبات میں تم بہہ تو لیا کرتے ہو کیسے دریا ہو ...

مزید پڑھیے

میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری

میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری وہ بولا مت بڑھاؤ بیکلی میری میں بولی شاہزادے مول کیا میرا وہ بولا شاہزادی زندگی میری میں بولی تیرگی ہر سو زیادہ ہے وہ بولا پھیلنے دو روشنی میری میں بولی ہجر میں کیسے جیو گے تم وہ بولا رک نہ جائے سانس ہی میری میں بولی خواب کس کا دیکھتے ہو تم وہ ...

مزید پڑھیے

یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے

یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے آ جا سکھ کے خواب بنیں ہم شہزادے اپنے ہوش گنوا بیٹھی ہوں پھر سے آج سوچ رہی ہوں تجھ کو ہر دم شہزادے شہزادی کے خواب عذاب نہ کر جانا ہو جاویں گی آنکھیں پر نم شہزادے میری روح میں تیری یاد اترتی ہے ہولے ہولے مدھم مدھم شہزادے ایسا سخت تکلم آخر کیوں ...

مزید پڑھیے

حسن سادہ کا وار آنکھیں ہیں

حسن سادہ کا وار آنکھیں ہیں بن ترے بیقرار آنکھیں ہیں میری جانب ہے جو ترا چہرہ میری جانب ہزار آنکھیں ہیں عیب تیرا کہاں چھپے گا اب شہر میں بے شمار آنکھیں ہیں میں نے طرز وفا تھا اپنایا اس لئے اشک بار آنکھیں ہیں پارسائی کہاں گئی بولو آج کیوں داغدار آنکھیں ہیں ایک نقشہ تھا خواب ...

مزید پڑھیے

زلف محبت برہم برہم می رقصم

زلف محبت برہم برہم می رقصم وجد میں ہے پھر چشم پر نم می رقصم عشق کی دھن میں آنکھیں نغمہ گاتی ہیں گھول مرے جذبوں میں سرگم می رقصم سائیاں زخم تری ہی جانب تکتے ہیں آج لگا نینوں سے مرہم می رقصم میری مستی میں سرشاری تیری ہے میرے اندر تیرے موسم می رقصم وحدت کا اک جام پلا دے آنکھوں ...

مزید پڑھیے

کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں

کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں کیسے دل کو ہم سمجھائیں آپ بتائیں آپ کہیں میں بعد میں اپنی کہہ لوں گی آپ کہیں پھر بھول نہ جائیں آپ بتائیں آپ کی اس اکتاہٹ کو اب ہم کیا سمجھیں کیا اب ہم ملنے نہیں آئیں آپ بتائیں آپ بنا اب کون ہمارے ناز اٹھائے کس سے روٹھیں کس کو ستائیں آپ ...

مزید پڑھیے

تہمت سیر چمن ہم پہ لگی کیا نہ ہوا

تہمت سیر چمن ہم پہ لگی کیا نہ ہوا طبع آزاد میں زنجیر پڑی کیا نہ ہوا وہ الم دوست تھے ہم جن کی ہر اک موسم میں دیکھتے دیکھتے خوشیوں سے ٹھنی کیا نہ ہوا خواب تو خواب رہے نیند بھی آنے سے رہی گرد بیداریٔ شب منہ پہ ملی کیا نہ ہوا سینۂ برگ‌ گل تر پہ نظر تھی اپنی زندگی آگ کے سانچے میں ڈھلی ...

مزید پڑھیے

سنہری دروازے کے باہر

لرزتے بدن رنگ کہرے میں لپٹے ہوئے ادھ مری روشنی کا کفن اوڑھ کر موت کی سر زمیں میں اجالوں پہ قربان ہونے سے پہلے بہت دیر تک اپنے احساس کی آنچ سہتے رہے شام نیم تاریک راہوں پہ ماتھا رگڑتی رہی کانپتی تھرتھراتی شب غم کے سانچے میں ڈھلنے سے پہلے بہت دیر تک سرد فانوس کے پاس ٹھہری ...

مزید پڑھیے

احساس

اگرچہ پتے بے شمار ہیں شجر تو ایک ہے جوانی میں اجلے دنوں کی سنہری دھوپ میں میرے پتے پھول گر گئے اب میں بھی سچ کی آغوش میں جذب ہونے کے لئے تیار ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 4188 سے 5858