لکیریں
اے طائر تمنا اک دوسرے کی خاطر کیسے رکے پڑے ہیں تو بھی تری زباں بھی میں بھی مرا قلم بھی واماندگی کی لو میں یہ کون سی زمیں ہے جس کی نمو سے میری سانسیں رکی ہوئی ہیں یہ کون سا فلک ہے جس کی تہوں میں شب کی بے گانگی دھری ہے!
اے طائر تمنا اک دوسرے کی خاطر کیسے رکے پڑے ہیں تو بھی تری زباں بھی میں بھی مرا قلم بھی واماندگی کی لو میں یہ کون سی زمیں ہے جس کی نمو سے میری سانسیں رکی ہوئی ہیں یہ کون سا فلک ہے جس کی تہوں میں شب کی بے گانگی دھری ہے!
ہم تو بس پیشی بھگتانے آئے ہیں ہم نے کیا لینا دینا ہے رقص صبا سے تم سے اس میلے سے جس میلے میں دستاویز پر دستخطوں کی پہلی فصل بچھی تھی اور زمانہ دو فرسنگ کی نا ہموار مسافت پر حیران کھڑا تھا ہم نے کیا لینا دینا ہے چاند سے چاند کی بڑھیا اور اس کے چرخے سے اس آنسو سے جو ٹپکا تو ہجر ہماری ...
خبر مفقود ہے لیکن لہو میں بھاگتی خواہش امیدوں کے ہرے ساحل پہ حیراں ہے اسے کشف سحر جو بھی ہوا سورج سے خالی ہے اسے جو راستے سونپے گئے تقسیم ہوتے زاویوں میں سانس لیتے ہیں کھلی آنکھوں میں روشن چاند تاروں کے چمکنے سے بہت پہلے غنیم وسعت داماں ہزاروں چاہ ڈھونڈھ لیتا ہے خبر مفقود ہے ...
یہ جو فصل فرقت عصر ہے اسے کاٹ بھی یہ جو دفتر غم زیست ہے اسے بند کر اسے بند کر کہ وہ بت فروش نہیں رہے جو اسیر تھے رخ دہر کے ترے روبرو ترے چار سو شب ہست و بود کی راہ میں ترے ہم قدم ترے آئنوں کی شکستگی کا بھرم لیے کوئی اور کب ہے مرے سوا کوئی اور کب تھا مرے بغیر مگر اے رہین دم الست مرے ...
لوگ کرتے ہیں فقط وقت گزاری پاگل بات کرتا ہے یہاں کون ہماری پاگل اس نے اک بار کہا کوئی نہیں تم جیسا تب سے میں لگنے لگی خود کو بھی پیاری پاگل وہ بھی ہنس ہنس کے کیا کرتا تھا باتیں اور میں اس کی باتوں میں چلی آئی بچاری پاگل ایک مدت سے تری راہ میں آ بیٹھی ہے عشق میں تیرے ہوئی ...
نظر اداس جگر بے قرار چپ خاموش تجھے کہا نہ ابھی صبر یار چپ خاموش یہ منزلوں کے سبھی واہمے مچائیں شور مگر ہے کس لیے ہر رہ گزار چپ خاموش وہ عمر بھر کے لیے لے گیا زباں میری کہا تھا اس نے کبھی ایک بار چپ خاموش نہ تو نہ تیری کوئی بات نا تری آواز سماں ہے آج بہت سوگوار چپ خاموش ابھی ...
عجیب چھایا ہے خوف و ہراس آنکھوں میں تمہارا درد نہیں ہے اداس آنکھوں میں تمام دشت پہ طاری ہے وجد کا عالم جنوں کا رقص ستارہ شناس آنکھوں میں گئے زمانوں سے رشتہ مرا نہیں ٹوٹا ادھورے خوابوں کی رکھی ہے باس آنکھوں میں ہر ایک چہرے سے ایسا دھواں نہیں اٹھتا یہ خاص روشنی ہوتی ہے خاص ...
دل میں ٹھہرا درد نگوڑا کوزہ گر کیسے موڑ پہ تو نے چھوڑا کوزہ گر میں بھی خود سے روٹھی روٹھی رہتی ہوں جب سے تو نے مکھ ہے موڑا کوزہ گر اب تو بکھرے بکھرے ہیں اجزا میرے جوڑا تھا تو کیوں کر توڑا کوزہ گر میری ہستی میں بھی تیری ہستی ہے میرا مجھ میں کچھ بھی نہ چھوڑا کوزہ گر میں نے خود میں ...
دل میں تصویر تری آنکھ میں آثار ترے زخم ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں بیمار ترے اے شب رنج و الم دیکھ ذرا رحم تو کر آہ کس کرب میں رہتے ہیں عزادار ترے زعم ہے تجھ کو اگر اپنے قبیلے پہ تو سن میرے قدموں میں گرے تھے کبھی سردار ترے آج بازار میں لائی گئی جب تیری شبیہ بھاگتے دوڑتے آ پہنچے ...
اسی کا ذکر کہانی سے اقتباس رہے وہ ہر گھڑی جو مرے واسطے اداس رہے یہ اس کا قرب مجھے عشق کی عطا سے ملا وہ دور جائے مگر میرے آس پاس رہے طرح طرح سے مجھے تو بچھڑ بچھڑ کے ملا طرح طرح کے مرے ذہن میں قیاس رہے تمہارے غم کے سوا اور کوئی غم بھی نہ تھا تمہارے درد مرے درد کی اساس رہے وہ کتنے ...