شاعری

شکوہ ہم تجھ سے بھلا تیز ہوا کیا کرتے

شکوہ ہم تجھ سے بھلا تیز ہوا کیا کرتے گھر تو اپنے ہی چراغوں سے جلا کیا کرتے تم تو پہلے ہی وفاؤں سے گریزاں تھے بہت تم سے ہم ترک تعلق کا گلہ کیا کرتے گل میں رنگت تھی نظاروں میں جوانی تجھ سے ہم ترے بعد بہاروں کا بھلا کیا کرتے تجھ سے دل میں جو گلہ تھا وہ نہ لائے لب پر پھر سے ہم بھر گئے ...

مزید پڑھیے

راہ میں اس کی چلیں اور امتحاں کوئی نہ ہو

راہ میں اس کی چلیں اور امتحاں کوئی نہ ہو کیسے ممکن ہے کہ آتش ہو دھواں کوئی نہ ہو اس کی مرضی ہے وہ مل جائے کسی کو بھیڑ میں اور کبھی ایسے ملے کہ درمیاں کوئی نہ ہو جگمگاتا ہے ستارہ بن کے تب امید کا بجھ گئے ہوں سب دیے اور کہکشاں کوئی نہ ہو خانۂ دل میں وہ رہتا کب کسی کے ساتھ ہے جلوہ گر ...

مزید پڑھیے

جگنو ہوا میں لے کے اجالے نکل پڑے

جگنو ہوا میں لے کے اجالے نکل پڑے یوں تیرگی سے لڑنے جیالے نکل پڑے سچ بولنا محال تھا اتنا کہ ایک دن سورج کی بھی زبان پہ چھالے نکل پڑے اتنا نہ سوچ مجھ کو ذرا دیکھ آئینہ آنکھوں کے گرد حلقے بھی کالے نکل پڑے محفل میں سب کے بیچ تھا ذکر بہار کل پھر جانے کیسے تیرے حوالے نکل پڑے

مزید پڑھیے

کسی کو سوچنا دل کا گداز ہو جانا

کسی کو سوچنا دل کا گداز ہو جانا ہوا کی چھیڑ سے پتوں کا ساز ہو جانا کبھی وہ گفتگو جیسے کہ کچھ چھپا ہی نہیں کبھی وہ بولتی آنکھوں کا راز ہو جانا بڑھانا ہاتھ پکڑنے کو رنگ مٹھی میں تو تتلیوں کے پروں کا دراز ہو جانا کبھی تو غفلتیں سجدوں میں اور کبھی یوں بھی کہ اس کو سوچ ہی لینا نماز ...

مزید پڑھیے

کہانی ہو کوئی بھی تیرا قصہ ہو ہی جاتی ہے

کہانی ہو کوئی بھی تیرا قصہ ہو ہی جاتی ہے کوئی تصویر دیکھوں تیرا چہرہ ہو ہی جاتی ہے تری یادوں کی لہریں گھیر لیتی ہیں یہ دل میرا زمیں گھر کر سمندر میں جزیرہ ہو ہی جاتی ہے گئی شب چاند جیسا جب چمکتا ہے خیال اس کا تمنا میری اک چھوٹا سا بچہ ہو ہی جاتی ہے سجا ہے تاج میرے سر پہ لیکن یہ ...

مزید پڑھیے

نکلا جو چلمنوں سے وہ چہرہ آفتابی

نکلا جو چلمنوں سے وہ چہرہ آفتابی اک آن میں افق کا آنچل ہوا گلابی رخ سے نقاب ان کے سرکا ہوا ہے کچھ کچھ دیوانہ کر نہ ڈالے یہ نیم بے حجابی سو جام کا نشہ ہے ساقی تری نظر میں کہتے ہیں بادہ کش بھی مجھ کو ترا شرابی بیکار لگ رہی ہیں دنیا کی سب کتابیں دیکھی ہے جب سے میں نے صورت تری ...

مزید پڑھیے

ہیں مزاج آسماں پہ جس تس کے

ہیں مزاج آسماں پہ جس تس کے ناز اٹھائیں بھی ہم تو کس کس کے بجلیوں کے سنہری حرفوں میں بادلوں پر ہیں دستخط کس کے آنکھ سے گر چھلک نہیں پاتے دل پہ گرتے ہیں اشک رس رس کے جانے کب ہووے دیدہ ور پیدا دیدے پتھرا گئے ہیں نرگس کے پاؤں چادر میں رہ نہ پائیں گے ہاتھ پھیلے رہیں گے جس جس ...

مزید پڑھیے

نہ اپنی بات نہ میرا قصور لکھا تھا

نہ اپنی بات نہ میرا قصور لکھا تھا شکایتوں سے بھرا خط ضرور لکھا تھا رسول آئے تو دہشت گروں کے بیچ آئے اندھیری رات کی قسمت میں نور لکھا تھا میں چاہتا بھی جو ملنا تو ان سے کیا ملتا جبیں پہ دور سے دیکھا غرور لکھا تھا وہ گھر کہ جس میں کسی کو کسی سے انس نہیں بڑے سے بورڈ پہ دارالسرور ...

مزید پڑھیے

سبھی سے ہم نہیں کھلتے کہ سب نہیں کھلتے

سبھی سے ہم نہیں کھلتے کہ سب نہیں کھلتے وگرنہ محفل یاراں میں کب نہیں کھلتے ہر ایک شخص کو حسن نظر نہیں ملتا ہر ایک شخص پہ شعر و ادب نہیں کھلتے یہاں پہ داد کو زنجیر اب نہیں کھنچتی یہاں پہ عدل کو دروازے اب نہیں کھلتے کہیں انا پہ یقیناً لگی ہے چوٹ نئی پرانے زخم یوں ہی بے سبب نہیں ...

مزید پڑھیے

ایک نظم ماں کے لیے

پہلی بار میں کب تکیے پر سر رکھ کر سوئی تھی ان کے بدن کو ڈھونڈا تھا اور روئی تھی دو ہاتھوں نے بھینچ لیا تھا گرم آغوش کی راحت میں کیسی گہری نیند مجھے تب آئی تھی کب دور ہوئی تھی پہلی بار اپنے پیروں پر چل کر بستر سے الگ پھر گھر سے الگ اک لمبے سفر پر نکلی تھی دھیرے دھیرے دور ہوئی کب نرم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4176 سے 5858