شاعری

مناظر خوبصورت ہیں

مناظر خوبصورت ہیں چلو چھو کر انہیں دیکھیں انہیں محسوس کرنے کے لیے آنکھوں کو رکھ دیں نرم سبزے پر لبوں کو سرخ پھولوں پر ہوا میں خوشبوؤں کا لمس جو گردن کو چھوتا ہے اسے سارے بدن پر پھیل جانے دیں جہاں پر پاؤں پڑتے ہیں وہاں تلووں سے شبنم کی نمی آنکھوں تلک آئے تو پھر سبزے پہ رکھی آنکھ سے ...

مزید پڑھیے

وہ اپنی ذات میں گم تھا نہیں کھلا مرے ساتھ

وہ اپنی ذات میں گم تھا نہیں کھلا مرے ساتھ رہا ہے ساتھ مرے پر نہیں رہا مرے ساتھ یہ تیری یاد کا اعجاز ہی تو ہے کہ یہ دل میں جل کے راکھ ہوا ہوں نہیں جلا مرے ساتھ ترے خلاف کیا جب بھی احتجاج اے دوست مرا وجود بھی شامل نہیں ہوا مرے ساتھ مرا جو رستہ تھا دراصل راستہ تھا وہی یہ اور بات ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں بس اذن سفر ہونے تک

ہم ہیں بس اذن سفر ہونے تک خاک اور خاک بہ سر ہونے تک کیسے کیسے ہیں مراحل درپیش اپنے ہونے کی خبر ہونے تک کیا عجب وصل کی خواہش نہ رہے ہجر کی رات بسر ہونے تک دل خوش فہم تری خوش فہمی منتشر گرد سفر ہونے تک سر بہ سجدہ ہیں در غالبؔ پر خوش سخن اہل نظر ہونے تک

مزید پڑھیے

یہ دل کتھا ہے اداکار تیرے بس میں نہیں

یہ دل کتھا ہے اداکار تیرے بس میں نہیں میں خون تھوکتا کردار تیرے بس میں نہیں میں مانتا ہوں کہ تجھ کو بھلا نہیں سکتا مجھے بھلانا بھی اے یار تیرے بس میں نہیں ہے روز بارگہہ دل میں آگ پر ماتم یہ غم منانا عزا دار تیرے بس میں نہیں مرے خدا ہو مجھے بھی بشارت بخشش نہیں کہ مجھ سا گناہ گار ...

مزید پڑھیے

نخل ممنوعہ کے رخ دوبارہ گیا میں تو مارا گیا

نخل ممنوعہ کے رخ دوبارہ گیا میں تو مارا گیا عرش سے فرش پر کیوں اتارا گیا میں تو مارا گیا جو پڑھا تھا کتابوں میں وہ اور تھا زندگی اور ہے میرا ایمان سارے کا سارا گیا میں تو مارا گیا غم گلے پڑ گیا زندگی بجھ گئی عقل جاتی رہی عشق کے کھیل میں کیا تمہارا گیا میں تو مارا گیا مجھ کو ...

مزید پڑھیے

ہم وفادار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں

ہم وفادار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں بس ترے یار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں ایک ہی سچ نے ہمیں ایسا کیا سرافراز برسر دار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں میں اکیلا ہوں مری جان کے دشمن افلاک ایک دو چار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں نام سنتے ہی مرا آگ بگولا ہو جائیں مجھ سے بیزار ہیں اور ...

مزید پڑھیے

عشق ہوں جرأت اظہار بھی کر سکتا ہوں

عشق ہوں جرأت اظہار بھی کر سکتا ہوں خود کو رسوا سر بازار بھی کر سکتا ہوں تو سمجھتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں تیرے بغیر میں ترے پیار سے انکار بھی کر سکتا ہوں غیر ممکن ہی سہی تجھ کو بھلانا لیکن یہ جو دریا ہے اسے پار بھی کر سکتا ہوں تو مری امن پسندی کو غلط نام نہ دے وار سہتا ہی نہیں وار ...

مزید پڑھیے

ہاں کبھی روح کو نخچیر نہیں کر سکتا

ہاں کبھی روح کو نخچیر نہیں کر سکتا تجھ زباں نے جو کیا تیر نہیں کر سکتا چاند ہوتا تو یہ ممکن تھا مگر چاند نہیں سو میں اس شخص کو تسخیر نہیں کر سکتا میں کہاں اور یہ آیات خد و خال کہاں مصحف حسن میں تفسیر نہیں کر سکتا آنکھ نے دیکھا سر شام وہ منظر فرتاشؔ کرنا چاہوں بھی تو تصویر نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ بھی گمراہ ہو گیا ہوگا

وہ بھی گمراہ ہو گیا ہوگا میرا بد خواہ ہو گیا ہوگا میرے حق میں جو بول اٹھا ہے درد آگاہ ہو گیا ہوگا سجدۂ شوق جو ادا نہ ہوا سنگ درگاہ ہو گیا ہوگا حادثے کی ہمیں خبر ہی نہیں خیر ناگاہ ہو گیا ہوگا واقعہ آپ تک نہیں پہنچا نذر افواہ ہو گیا ہوگا صورت حال دیکھ کر وہ بھی تیرے ہم راہ ہو گیا ...

مزید پڑھیے

صف ماتم پہ جو ہم ناچنے گانے لگ جائیں

صف ماتم پہ جو ہم ناچنے گانے لگ جائیں گردش وقت! ترے ہوش ٹھکانے لگ جائیں وہ تو وہ اس کی معیت میں گزارا ہوا پل جو بھلائیں تو بھلانے میں زمانے لگ جائیں مرے قادر! جو تو چاہے تو یہ ممکن ہو جائے رفتگاں شہر عدم سے یہاں آنے لگ جائیں بزم دنیا سے چلوں ایسا نہ ہو سب مرے یار ایک ایک کر کے مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4177 سے 5858