آدھی رات
۱ سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیں زمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینار جدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگی اک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیں جھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیں جھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میں رسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خواب فلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں ...