شاعری

شام عیادت

یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئے شباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئے دھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئی چٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئے لبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہے کنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئے قدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزر ادا ادا میں بے شمار ...

مزید پڑھیے

آزادی

مری صدا ہے گل شمع شام آزادی سنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادی لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی مجھے بقا کی ضرورت نہیں کہ فانی ہوں مری فنا سے ہے پیدا دوام آزادی جو راج کرتے ہیں جمہوریت کے پردے میں انہیں بھی ہے سر و سودائے خام آزادی بنائیں گے نئی دنیا ...

مزید پڑھیے

جدائی

شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئی سبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئی رگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلی یہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹا فضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئی دھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کے سیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئی یہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4158 سے 5858