ہر جلوہ سے اک درس نمو لیتا ہوں
ہر جلوہ سے اک درس نمو لیتا ہوں لبریز کئی جام و سبو لیتا ہوں پڑتی ہے جب آنکھ تجھ پر اے جان بہار سنگیت کی سرحدوں کو چھو لیتا ہوں
ہر جلوہ سے اک درس نمو لیتا ہوں لبریز کئی جام و سبو لیتا ہوں پڑتی ہے جب آنکھ تجھ پر اے جان بہار سنگیت کی سرحدوں کو چھو لیتا ہوں
غنچے کو نسیم گدگدائے جیسے مطرب کوئی ساز چھیڑ جائے جیسے یوں پھوٹ رہی ہے مسکراہٹ کی کرن مندر میں چراغ جھلملائے جیسے
کہتی ہیں یہی تیری نگاہیں اے دوست نکلیں نئی زندگی کی راہیں اے دوست کیوں حسن و محبت سے نہ اونچے اٹھ کے دونوں اک دوسرے کو چاہیں اے دوست
مہتاب میں سرخ انار جیسے چھوٹے یا قوس قزح لچک کے جیسے ٹوٹے وہ قد ہے کہ بھیرویں سنائے جب صبح گل زار عشق سے نرم کونپل پھوٹے
جب چاند کی وادیوں سے نغمے برسیں آکاش کی گھاٹیوں میں ساغر اچھلیں امرت میں دھلی ہوئی رات اے کاش ترے پائے رنگیں کی چاپ ایسے میں سنیں
ہر ساز سے ہوتی نہیں یہ دھن پیدا ہوتا ہے بڑے جتن سے یہ گن پیدا میزان نشاط و غم میں صدیوں تل کر ہوتا ہے حیات میں توازن پیدا
رکھشا بندھن کی صبح رس کی پتلی چھائی ہے گھٹا گگن پہ ہلکی ہلکی بجلی کی طرح لچک رہے ہیں لچھے بھائی کے ہے باندھی چمکتی راکھی
یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئے شباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئے دھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئی چٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئے لبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہے کنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئے قدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزر ادا ادا میں بے شمار ...
مری صدا ہے گل شمع شام آزادی سنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادی لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی مجھے بقا کی ضرورت نہیں کہ فانی ہوں مری فنا سے ہے پیدا دوام آزادی جو راج کرتے ہیں جمہوریت کے پردے میں انہیں بھی ہے سر و سودائے خام آزادی بنائیں گے نئی دنیا ...
شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئی سبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئی رگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلی یہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹا فضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئی دھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کے سیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئی یہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس ...