شاعری

جبیں پہ گرد ہے چہرہ خراش میں ڈوبا

جبیں پہ گرد ہے چہرہ خراش میں ڈوبا ہوا خراب جو اپنی تلاش میں ڈوبا قلم اٹھایا تو سر پر کلاہ کج نہ رہی یہ شہریار بھی فکر معاش میں ڈوبا جھلے ہے پنکھا یہ زخموں پہ کون آٹھ پہر ملا ہے مجھ کو نفس ارتعاش میں ڈوبا اسے نہ کیوں تری دلداریٔ نظر کہیے وہ نیشتر جو دل پاش پاش میں ڈوبا فضاؔ ہے ...

مزید پڑھیے

ہر اک قیاس حقیقت سے دور تر نکلا

ہر اک قیاس حقیقت سے دور تر نکلا کتاب کا نہ کوئی درس معتبر نکلا نفس تمام ہوا داستان ختم ہوئی جو تھا طویل وہی حرف مختصر نکلا جو گرد ساتھ نہ اڑتی سفر نہ یوں کٹتا غبار راہ گزر موج بال و پر نکلا مجھے بھی کچھ نئے تیشے سنبھالنے ہی پڑے پرانے خول کو جب وہ بھی توڑ کر نکلا فضا کشادہ نہیں ...

مزید پڑھیے

سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا

سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا ذرا سی دھوپ بھی اس سائباں میں رکھ دینا تجھے ہوس ہو جو مجھ کو ہدف بنانے کی مجھے بھی تیر کی صورت کماں میں رکھ دینا شکست کھائے ہوئے حوصلوں کا لشکر ہوں اٹھا کے مجھ کو صف دشمناں میں رکھ دینا جدید نسلوں کی خاطر یہ ورثہ کافی ہے مرے یقیں کو حصار گماں ...

مزید پڑھیے

کھلا نہ مجھ سے طبیعت کا تھا بہت گہرا

کھلا نہ مجھ سے طبیعت کا تھا بہت گہرا ہزار اس سے رہا رابطہ بہت گہرا بس اس قدر کہ یہ ہجرت کی عمر کٹ جائے نہ مجھ غریب سے رکھ سلسلہ بہت گہرا سب اپنے آئینے اس نے مجھی کو سونپ دیے اسے شکست کا احساس تھا بہت گہرا مجھے طلسم سمجھتا تھا وہ سرابوں کا بڑھا جو آگے سمندر ملا بہت گہرا شدید ...

مزید پڑھیے

لہو ہماری جبیں کا کسی کے چہرے پر

لہو ہماری جبیں کا کسی کے چہرے پر یہ روپ رس بھی سہی زندگی کے چہرے پر ابھی یہ زخم مسرت ہے ناشگفتہ سا چھڑک دو میرے کچھ آنسو ہنسی کے چہرے پر نوا کی گرد ہوں مجھ کو سمیٹ کر لے جا بکھر نہ جاؤں کہیں خامشی کے چہرے پر اس انقلاب پہ کس کی نظر گئی ہوگی غموں کی دھوپ کھلی ہے خوشی کے چہرے ...

مزید پڑھیے

اچھا ہوا میں وقت کے محور سے کٹ گیا

اچھا ہوا میں وقت کے محور سے کٹ گیا قطرہ گہر بنا جو سمندر سے کٹ گیا زندہ جو بچ گئے ہیں سہیں نفرتوں کے دکھ اپنا گلا تو پیار کے خنجر سے کٹ گیا موسم بھی منفعل ہے بہت کیا بھروں اڑان رشتہ ہواؤں کا مرے شہ پر سے کٹ گیا پلکوں پر اپنی کون مجھے اب سجائے گا میں ہوں وہ رنگ جو ترے پیکر سے کٹ ...

مزید پڑھیے

غزل کے پردے میں بے پردہ خواہشیں لکھنا

غزل کے پردے میں بے پردہ خواہشیں لکھنا نہ آیا ہم کو برہنہ گزارشیں لکھنا ترے جہاں میں ہوں بے سایہ ابر کی صورت مرے نصیب میں بے ابر بارشیں لکھنا حساب درد تو یوں سب مری نگاہ میں ہے جو مجھ پہ ہو نہ سکیں وہ نوازشیں لکھنا خراشیں چہرے کی سینے کے زخم سوکھ چلے کہاں ہیں ناخن یاراں کی ...

مزید پڑھیے

لہو ہی کتنا ہے جو چشم تر سے نکلے گا

لہو ہی کتنا ہے جو چشم تر سے نکلے گا یہاں بھی کام نہ عرض ہنر سے نکلے گا ہر ایک شخص ہے بے سمتیوں کی دھند میں گم بتائے کون کہ سورج کدھر سے نکلے گا کرو جو کر سکو بکھرے ہوئے وجود کو جمع کہ کچھ نہ کچھ تو غبار سفر سے نکلے گا میں اپنے آپ سے مل کر ہوا بہت مایوس خبر تھی گرم کہ وہ آج گھر سے ...

مزید پڑھیے

بساط دانش‌ و حرف و ہنر کہاں کھولیں

بساط دانش‌ و حرف و ہنر کہاں کھولیں یہ سوچتے ہیں لب معتبر کہاں کھولیں عجب حصار ہیں سب اپنے گرد کھینچے ہوئے وجود کی وہی دیوار در کہاں کھولیں پڑاؤ ڈالیں کہاں راستے میں شام ہوئی بھنور ہیں سامنے رخت سفر کہاں کھولیں یہاں شعور کے ناخن تو ہم بھی رکھتے ہیں مگر یہ عقدۂ‌ فکر و نظر کہاں ...

مزید پڑھیے

سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا

سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا وہ موج موج مگر خود مرا بکھر جانا یہ کیا خبر تمہیں کس روپ میں ہوں زندہ میں ملے نہ جسم تو سائے کو قتل کر جانا پڑا ہوں یخ زدہ صحرائے آگہی میں ہنوز مرے وجود میں تھوڑی سی دھوپ بھر جانا کبھی تو ساتھ یہ آسیب وقت چھوڑے گا خود اپنے سائے کو بھی دیکھنا تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4149 سے 5858