شاعری

دیکھو آہستہ چلو

دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرا دیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھنا زور سے بج نہ اٹھے پیروں کی آواز کہیں کانچ کے خواب ہیں بکھرے ہوئے تنہائی میں خواب ٹوٹے نہ کوئی جاگ نہ جائے دیکھو جاگ جائے گا کوئی خواب تو مر جائے گا

مزید پڑھیے

گھٹن

جی میں آتا ہے کہ اس کان سے سوراخ کروں کھینچ کر دوسری جانب سے نکالوں اس کو ساری کی ساری نچوڑوں یہ رگیں، صاف کروں بھر دوں ریشم کی جلائی ہوئی بکی ان میں قہقہاتی ہوئی اس بھیڑ میں شامل ہو کر میں بھی اک بار ہنسوں، خوب ہنسوں، خوب ہنسوں

مزید پڑھیے

دستک

صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا' دیکھا سرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیں آنکھوں سے مانوس تھے سارے چہرے سارے سنے سنائے پاؤں دھوئے، ہاتھ دھلائے آنگن میں آسن لگوائے اور تنور پہ مکی کے کچھ موٹے موٹے روٹ پکائے پوٹلی میں مہمان مرے پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے آنکھ ...

مزید پڑھیے

وراثت

اپنی مرضی سے تو مذہب بھی نہیں اس نے چنا تھا اس کا مذہب تھا جو ماں باپ سے ہی اس نے وراثت میں لیا تھا اپنے ماں باپ چنے کوئی یہ ممکن ہی کہاں ہے؟ اس پہ یہ ملک بھی لازم تھا کہ ماں باپ کا گھر تھا اس میں یہ وطن اس کا چناؤ تو نہیں تھا۔۔۔ وہ تو کل نو ہی برس کا تھا، اسے کیوں چن کر فرقہ وارانہ ...

مزید پڑھیے

تخلیق

تمہارے ہونٹوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی تلاوتیں جھک کے میری آنکھوں کو چھو رہی ہیں میں اپنے ہونٹوں سے چن رہا ہوں تمہاری سانسوں کی آیتوں کو کہ جسم کے اس حسین کعبے پہ روح سجدے بچھا رہی ہے وہ ایک لمحہ بڑا مقدس تھا جس میں تم جنم لے رہی تھیں وہ ایک لمحہ بڑا مقدس تھا جس میں میں جنم لے رہا تھا یہ ایک ...

مزید پڑھیے

حراست

دھندلائی ہوئی شام تھی السائی ہوئی سی اور وقت بھی باسی تھا میں جب شہر میں آیا ہر شاخ سے لپٹے ہوئے سناٹے کھڑے تھے دیواروں سے چپکی ہوئی خاموشی پڑی تھی راہوں میں نفس کوئی نہ پرچھائیں نہ سایہ ان گلیوں میں کوچوں میں، اندھیرا نہ اجالا دروازوں کے پٹ بند تھے، خالی تھے دریچے بس وقت کے کچھ ...

مزید پڑھیے

غالبؔ

رات کو اکثر ہوتا ہے پروانے آ کر ٹیبل لیمپ کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں سنتے ہیں سر دھنتے ہیں سن کے سب اشعار غزل کے جب بھی میں دیوان غالب کھول کے پڑھنے بیٹھتا ہوں صبح پھر دیوان کے روشن صفحوں سے پروانوں کی راکھ اٹھانی پڑتی ہے

مزید پڑھیے

اکیلے

کس قدر سیدھا، سہل، صاف ہے رستہ دیکھو نہ کسی شاخ کا سایہ ہے، نہ دیوار کی ٹیک نہ کسی آنکھ کی آہٹ، نہ کسی چہرے کا شور دور تک کوئی نہیں، کوئی نہیں، کوئی نہیں چند قدموں کے نشاں ہاں کبھی ملتے ہیں کہیں ساتھ چلتے ہیں جو کچھ دور فقط چند قدم اور پھر ٹوٹ کے گر جاتے ہیں یہ کہتے ہوئے اپنی ...

مزید پڑھیے

وہ جو شاعر تھا

وہ جو شاعر تھا، چپ سا رہتا تھا بہکی بہکی سی باتیں کرتا تھا آنکھیں کانوں پہ رکھ کے سنتا تھا گونگی خاموشیوں کی آوازیں! جمع کرتا تھا چاند کے سائے گیلی گیلی سی نور کی بوندیں اوک میں بھر کے کھڑکھڑاتا تھا روکھے روکھے سے رات کے پتے وقت کے اس گھنیرے جنگل میں کچے پکے سے لمحے چنتا تھا ہاں، ...

مزید پڑھیے

لینڈسکیپ

دور سنسان سے ساحل کے قریب ایک جواں پیڑ کے پاس عمر کے درد لیے، وقت کا مٹیالا دشالہ اوڑھے بوڑھا سا پام کا اک پیڑ، کھڑا ہے کب سے سیکڑوں سالوں کی تنہائی کے بعد جھک کے کہتا ہے جواں پیڑ سے ''یار! سرد سناٹا ہے! تنہائی ہے! کچھ بات کرو!''

مزید پڑھیے
صفحہ 4074 سے 5858