غالب
بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں سامنے ٹال کی نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے گڑگڑاتی ہوئی پان کی پیکوں میں وہ داد وہ واہ وا چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردے ایک بکری کے ممیانے کی آواز اور دھندلائی ہوئی شام کے بے نور اندھیرے سائے ایسے دیواروں سے منہ جوڑ ...