شاعری

غالب

بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں سامنے ٹال کی نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے گڑگڑاتی ہوئی پان کی پیکوں میں وہ داد وہ واہ وا چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردے ایک بکری کے ممیانے کی آواز اور دھندلائی ہوئی شام کے بے نور اندھیرے سائے ایسے دیواروں سے منہ جوڑ ...

مزید پڑھیے

بارش ہوتی ہے تو پانی کو بھی لگ جاتے ہیں پاؤں

بارش ہوتی ہے تو پانی کو بھی لگ جاتے ہیں پاؤں در و دیوار سے ٹکرا کے گزرتا ہے گلی سے اور اچھلتا ہے چھپاکوں میں کسی میچ میں جیتے ہوئے لڑکوں کی طرح جیت کر آتے ہیں جب میچ گلی کے لڑکے جوتے پہنے ہوئے کینوس کے اچھلتے ہوئے گیندوں کی طرح در و دیوار سے ٹکرا کے گزرتے ہیں وہ پانی کے چھپاکوں کی ...

مزید پڑھیے

شہتوت کی شاخ پہ

شہتوت کی شاخ پہ بیٹھا کوئی بنتا ہے ریشم کے تاگے لمحہ لمحہ خول رہا ہے پتہ پتہ بین رہا ہے ایک ایک سانس بجا کر سنتا ہے سودائی ایک ایک سانس کو خول کے اپنے تن پر لپٹاتا جاتا ہے اپنی ہی سانسوں کا قیدی ریشم کا یہ شاعر اک دن اپنے ہی تاگوں میں گھٹ کر مر جائے گا!

مزید پڑھیے

بوسکی

وقت کو آتے نہ جاتے نہ گزرتے دیکھا نہ اترتے ہوئے دیکھا کبھی الہام کی صورت جمع ہوتے ہوئے اک جگہ مگر دیکھا ہے شاید آیا تھا وہ خوابوں سے دبے پاؤں ہی اور جب آیا خیالوں کو بھی احساس نہ تھا آنکھ کا رنگ طلوع ہوتے ہوئے دیکھا جس دن میں نے چوما تھا مگر وقت کو پہچانا نہ تھا چند تتلائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

اخبار

سارا دن میں خون میں لت پت رہتا ہوں سارے دن میں سوکھ سوکھ کے کالا پڑ جاتا ہے خون پپڑی سی جم جاتی ہے کھرچ کھرچ کے ناخونوں سے چمڑی چھلنے لگتی ہے ناک میں خون کی کچی بو اور کپڑوں پر کچھ کالے کالے چکتے سے رہ جاتے ہیں روز صبح اخبار مرے گھر خون میں لت پت آتا ہے

مزید پڑھیے

خانہ بدوش

چار تنکے اٹھا کے جنگل سے ایک بالی اناج کی لے کر چند قطرے بلکتے اشکوں کے چند فاقے بجھے ہوئے لب پر مٹھی بھر اپنی قبر کی مٹی مٹھی بھر آرزوؤں کا گارا ایک تعمیر کی، لیے حسرت تیرا خانہ بدوش بے چارہ شہر میں در بدر بھٹکتا ہے تیرا کاندھا ملے تو سر ٹیکوں

مزید پڑھیے

دھوپ لگے آکاش پہ جب

دھوپ لگے آکاش پہ جب دن میں چاند نظر آیا تھا ڈاک سے آیا مہر لگا ایک پرانا سا تیرا چٹھی کا لفافہ یاد آیا چٹھی گم ہوئے تو عرصہ بیت چکا مہر لگا بس مٹیالا سا اس کا لفافہ رکھا ہے!

مزید پڑھیے

چمپئی دھوپ

خلاؤں میں تیرتے جزیروں پہ چمپئی دھوپ دیکھ کیسے برس رہی ہے! مہین کہرا سمٹ رہا ہے ہتھیلیوں میں ابھی تلک تیرے نرم چہرے کا لمس ایسے چھلک رہا ہے کہ جیسے صبح کو اوک میں بھر لیا ہو میں نے بس ایک مدھم سی روشنی میرے ہاتھوں پیروں میں بہہ رہی ہے ترے لبوں پہ زبان رکھ کر میں نور کا وہ حسین ...

مزید پڑھیے

آدمی بلبلہ ہے

آدمی بلبلہ ہے پانی کا اور پانی کی بہتی سطح پر ٹوٹتا بھی ہے ڈوبتا بھی ہے پھر ابھرتا ہے، پھر سے بہتا ہے نہ سمندر نگل سکا اس کو نہ تواریخ توڑ پائی ہے وقت کی ہتھیلی پر بہتا آدمی بلبلہ ہے پانی کا

مزید پڑھیے

بے خودی

دو سوندھے سوندھے سے جسم جس وقت ایک مٹھی میں سو رہے تھے لبوں کی مدھم طویل سرگوشیوں میں سانسیں الجھ گئی تھیں مندے ہوئے ساحلوں پہ جیسے کہیں بہت دور ٹھنڈا ساون برس رہا تھا بس ایک روح ہی جاگتی تھی بتا تو اس وقت میں کہاں تھا؟ بتا تو اس وقت تو کہاں تھی؟

مزید پڑھیے
صفحہ 4073 سے 5858