ڈائری
نہ جانے کس کی یہ ڈائری ہے نہ نام ہے، نہ پتہ ہے کوئی: ''ہر ایک کروٹ میں یاد کرتا ہوں تم کو لیکن یہ کروٹیں لیتے رات دن یوں مسل رہے ہیں مرے بدن کو تمہاری یادوں کے جسم پر نیل پڑ گئے ہیں'' ایک اور صفحے پہ یوں لکھا ہے: ''کبھی کبھی رات کی سیاہی، کچھ ایسی چہرے پہ جم سی جاتی ہے لاکھ رگڑوں، سحر ...