شاعری

ڈائری

نہ جانے کس کی یہ ڈائری ہے نہ نام ہے، نہ پتہ ہے کوئی: ''ہر ایک کروٹ میں یاد کرتا ہوں تم کو لیکن یہ کروٹیں لیتے رات دن یوں مسل رہے ہیں مرے بدن کو تمہاری یادوں کے جسم پر نیل پڑ گئے ہیں'' ایک اور صفحے پہ یوں لکھا ہے: ''کبھی کبھی رات کی سیاہی، کچھ ایسی چہرے پہ جم سی جاتی ہے لاکھ رگڑوں، سحر ...

مزید پڑھیے

پینٹنگ

رات کل گہری نیند میں تھی جب ایک تازہ سفید کینوس پر آتشیں، لال سرخ رنگوں سے میں نے روشن کیا تھا اک سورج۔۔۔ صبح تک جل گیا تھا وہ کینوس راکھ بکھری ہوئی تھی کمرے میں

مزید پڑھیے

کتابیں

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے بڑی حسرت سے تکتی ہیں مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں' اب اکثر گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے بڑی حسرت سے تکتی ہیں جو قدریں وہ سناتی ...

مزید پڑھیے

الاؤ

رات بھر سرد ہوا چلتی رہی رات بھر ہم نے الاؤ تاپا میں نے ماضی سے کئی خشک سی شاخیں کاٹیں تم نے بھی گزرے ہوئے لمحوں کے پتے توڑے میں نے جیبوں سے نکالیں سبھی سوکھی نظمیں تم نے بھی ہاتھوں سے مرجھائے ہوئے خط کھولے اپنی ان آنکھوں سے میں نے کئی مانجے توڑے اور ہاتھوں سے کئی باسی لکیریں ...

مزید پڑھیے

تعاقب

صبح سے شام ہوئی اور ہرن مجھ کو چھلاوے دیتا سارے جنگل میں پریشان کیے گھوم رہا ہے اب تک اس کی گردن کے بہت پاس سے گزرے ہیں کئی تیر مرے وہ بھی اب اتنا ہی ہشیار ہے جتنا میں ہوں اک جھلک دے کے جو گم ہوتا ہے وہ پیڑوں میں میں وہاں پہنچوں تو ٹیلے پہ کبھی چشمے کے اس پار نظر آتا ہے وہ نظر رکھتا ...

مزید پڑھیے

گرہیں

مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہے اکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتے جب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہوا پھر سے باندھ کے اور سرا کوئی جوڑ کے اس میں آگے بننے لگتے ہو تیرے اس تانے میں لیکن اک بھی گانٹھ گرہ بنتر کی دیکھ نہیں سکتا ہے کوئی میں نے تو اک بار بنا تھا ایک ہی رشتہ لیکن اس کی ...

مزید پڑھیے

الجھن

ایک پشیمانی رہتی ہے الجھن اور گرانی بھی آؤ پھر سے لڑ کر دیکھیں شاید اس سے بہتر کوئی اور سبب مل جائے ہم کو پھر سے الگ ہو جانے کا

مزید پڑھیے

ایک خواب

ایک ہی خواب کئی بار یوں ہی دیکھا میں نے تو نے ساڑی میں اڑس لی ہیں مری چابیاں گھر کی اور چلی آئی ہے بس یوں ہی مرا ہاتھ پکڑ کر گھر کی ہر چیز سنبھالے ہوئے اپنائے ہوئے تو تو مرے پاس مرے گھر پہ مرے ساتھ ہے سونوںؔ میز پر پھول سجاتے ہوئے دیکھا ہے کئی بار اور بستر سے کئی بار جگایا بھی ہے ...

مزید پڑھیے

خود کشی

بس اک لمحہ کا جھگڑا تھا در و دیوار پر ایسے چھناکے سے گری آواز جیسے کانچ گرتا ہے ہر اک شے میں گئیں اڑتی ہوئی، جلتی ہوئی کرچیں نظر میں، بات میں، لہجے میں، سوچ اور سانس کے اندر لہو ہونا تھا اک رشتے کا سو وہ ہو گیا اس دن!! اسی آواز کے ٹکڑے اٹھا کے فرش سے اس شب کسی نے کاٹ لیں نبضیں نہ کی ...

مزید پڑھیے

لکڑی کی کاٹھی

لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑا گھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑا دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا گھوڑا پہنچا چوک میں چوک میں تھا نائی گھوڑے جی کی نائی نے حجامت جو بنائی دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا گھوڑا تھا گھمنڈی پہنچا سبزی منڈی سبزی منڈی برف پڑی تھی برف میں لگ گئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4075 سے 5858