شاعری

ہجوم درد کا اتنا بڑھے اثر گم ہو

ہجوم درد کا اتنا بڑھے اثر گم ہو ملے وہ رات کہ جس رات کی سحر گم ہو مزا تو جب ہے کہ آوارگان شوق کے ساتھ غبار بن کے چلے اور رہ گزر گم ہو ہماری طرح خراب سفر نہ ہو کوئی الٰہی یوں تو کسی کا نہ راہبر گم ہو چلے ہیں ہم بھی چراغ نظر جلائے ہوئے یہ روشنی بھی کہیں راہ میں اگر گم ہو تلاش دوست ...

مزید پڑھیے

بستی میں کمی کس چیز کی ہے پتھر بھی بہت شیشے بھی بہت

بستی میں کمی کس چیز کی ہے پتھر بھی بہت شیشے بھی بہت اس مہر و جفا کی نگری سے دل کے ہیں مگر رشتے بھی بہت اب کون بتائے وحشت میں کیا کھونا ہے کیا پایا ہے ہاتھوں کا ہوا شہرہ بھی بہت دامن نے سہے صدمے بھی بہت اک جہد و طلب کے راہی پر بے راہروی کی تہمت کیوں سمتوں کا فسوں جب ٹوٹ گیا آوارہ ...

مزید پڑھیے

ہر ستم لطف ہے دل خوگر آزار کہاں

ہر ستم لطف ہے دل خوگر آزار کہاں سچ کہا تم نے مجھے غم سے سروکار کہاں دشت و صحرا کے کچھ آداب ہوا کرتے ہیں کیوں بھٹکتے ہو یہاں سایۂ دیوار کہاں بادۂ شوق سے لبریز ہے ساغر میرا کیسے اذکار مجھے فرصت افکار کہاں کیوں ترے دور میں محروم سزا ہوں کہ مجھے جرم پر ناز سہی جرم سے انکار کہاں رہ ...

مزید پڑھیے

وہ نازک سا تبسم رہ گیا وہم حسیں بن کر

وہ نازک سا تبسم رہ گیا وہم حسیں بن کر نمایاں ہو گیا ذوق ستم چین جبیں بن کر بہت اترا رہی ہے رات زلف عنبریں بن کر بہت مغرور ہے نور سحر رنگ جبیں بن کر مری جامہ دری نے راز یہ کھولا زمانے پر خرد دھوکے دیا کرتی ہے جیب و آستیں بن کر کرم میں بھی مگر اک غمزۂ خوں ریز شامل تھا نگاہوں کی طرف ...

مزید پڑھیے

سواد غم میں کہیں گوشۂ اماں نہ ملا

سواد غم میں کہیں گوشۂ اماں نہ ملا ہم ایسے کھوئے کہ پھر تیرا آستاں نہ ملا غموں کی بزم کہ تنہائیوں کی محفل تھی ہمیں وہ دشمن تمکیں کہاں کہاں نہ ملا عجیب دور ستم ہے کہ دل کو مدت سے نوید غم نہ ملی مژدۂ زیاں نہ ملا کسے ہے یاد کہ سعی و طلب کی راہوں میں کہاں ملا ہمیں تیرا نشاں کہاں نہ ...

مزید پڑھیے

بہار آئی گل افشانیوں کے دن آئے

بہار آئی گل افشانیوں کے دن آئے اٹھاؤ ساز غزل خوانیوں کے دن آئے نگاہ شوق کی گستاخیوں کا دور آیا دل خراب کی نادانیوں کے دن آئے نگاہ حسن خریداریوں پہ مائل ہے متاع شوق کی ارزانیوں کے دن آئے مزاج عقل کی ناسازیوں کا موسم ہے جنوں کی سلسلہ جنبانیوں کے دن آئے سروں نے دعوت آشفتگی کا ...

مزید پڑھیے

تمہیں بتاؤ پکارا ہے بار بار کسے

تمہیں بتاؤ پکارا ہے بار بار کسے عزیز کہتے ہیں غم ہائے روزگار کسے سکوت راز کہو یا سکوت مجبوری مگر لبوں کی جسارت تھی ناگوار کسے خزاں میں کس نے بہاروں کی دل کشی بھر دی دعائیں دیتا ہے دامن کا تار تار کسے کہاں وہ داغ کہ دل کا گماں کرے کوئی سمجھئے عہد تمنا کی یادگار کسے نسیم صبح کا ...

مزید پڑھیے

درد

سرسراہٹ ہے نہ آہٹ ہے نہ ہلچل نہ چبھن درد چپ چاپ کسی دھیمی ندی کی صورت سانس لیتی ہوئی گانٹھوں میں اتر آیا ہے کتنے برسوں کی ریاضت سے ہنر مندی سے ایسے بکھرے ہوئے ریشوں کو سمیٹا ہے مگر اور ہر بار ہر اک بار بہت جتنوں سے جسم کو جان سے جوڑا ہے مگر بے سبب سانس کی کٹتی ڈوری کب سے تھامے ...

مزید پڑھیے

یاد نہیں ہے

دھیرے دھیرے بہنے والی ایک سلونی شام عجب تھی الجھی سلجھی خاموشی کی نرم تہوں میں سلوٹ سلوٹ بھید چھپا تھا سردیلی مخمور ہوا میں میٹھا میٹھا لمس گھلا تھا دھیرے دھیرے خواب کی گیلی ریت پہ اترے درد کے منظر پگھل رہے تھے خواہش کے گمنام جزیرے ساحل پر پھیلی خوشبو کے مرغولوں کو نگل رہے ...

مزید پڑھیے

شب ڈوب گئی

پھر گھور اماوس رات میں کوئی دیپ جلا اک دھیمے دھیمے سناٹے میں پھول ہلا کوئی بھید کھلا اور بوسیدہ دیوار پہ بیٹھی یاد ہنسی اک ہوک اٹھی اک پتا ٹوٹا سرسر کرتی ٹہنی سے اک خواب گرا اور کانچ کی درزوں سے کرنوں کا جال اٹھا کچھ لمحے سرکے تاروں کی زنجیر ہلی شب ڈوب گئی

مزید پڑھیے
صفحہ 4066 سے 5858