ہجوم درد کا اتنا بڑھے اثر گم ہو
ہجوم درد کا اتنا بڑھے اثر گم ہو ملے وہ رات کہ جس رات کی سحر گم ہو مزا تو جب ہے کہ آوارگان شوق کے ساتھ غبار بن کے چلے اور رہ گزر گم ہو ہماری طرح خراب سفر نہ ہو کوئی الٰہی یوں تو کسی کا نہ راہبر گم ہو چلے ہیں ہم بھی چراغ نظر جلائے ہوئے یہ روشنی بھی کہیں راہ میں اگر گم ہو تلاش دوست ...