شاعری

تاریکیوں میں اپنی ضیا چھوڑ جاؤں گا

تاریکیوں میں اپنی ضیا چھوڑ جاؤں گا گزروں گا میں تو نقش وفا چھوڑ جاؤں گا دنیا کے لوگ سنتے رہیں گے تمام عمر لفظوں میں اپنے دل کی صدا چھوڑ جاؤں گا اپنے لہو سے پھول کھلا کر حیات کے ہر سمت خوشبوؤں کی فضا چھوڑ جاؤں گا رکھیں گی یاد حسن کی رعنائیاں مجھے وہ گلستاں میں رنگ نیا چھوڑ جاؤں ...

مزید پڑھیے

چراغ سے کبھی تاروں سے روشنی مانگے

چراغ سے کبھی تاروں سے روشنی مانگے اندھیری رات بھی کس کس سے زندگی مانگے جلانے والے جلاتے ہیں نفرتوں کے چراغ فضائے وقت محبت کی روشنی مانگے وہ نا شناس حقیقت ہے اس زمانہ میں وفا کو بھیک سمجھ کر گلی گلی مانگے نشاط و رنج مقدر کی بات ہوتی ہے کسی سے غم نہ کسی سے کوئی خوشی مانگے ہر ایک ...

مزید پڑھیے

غم نہیں جو لٹ گئے ہم آ کے منزل کے قریب

غم نہیں جو لٹ گئے ہم آ کے منزل کے قریب جانے کتنی کشتیاں ڈوبی ہیں ساحل کے قریب سرفروشی میری کوئی رنگ دکھلا جائے گی آ گیا ہوں یہ ارادہ لے کے قاتل کے قریب صرف دل کی بے حسی تھی فاصلہ کچھ بھی نہ تھا جب کیا احساس پایا آپ کو دل کے قریب تم نے جو رکھا یوں ہی تخریب کارانہ مزاج کون آنے دے گا ...

مزید پڑھیے

میں غرق وہاں پیاس کے پیکر کی طرح تھا

میں غرق وہاں پیاس کے پیکر کی طرح تھا ہر قطرہ جہاں ایک سمندر کی طرح تھا گھر سارے شکستہ تھے گذر گاہیں اندھیری کچھ شہر مرا میرے مقدر کی طرح تھا آج اس کا جہاں میں کوئی پرساں ہی نہیں ہے کل تک جو زمانے میں سکندر کی طرح تھا تھا اس کے مقدر میں لکھا ڈوبنا ڈوبا حالانکہ وہ دریا میں شناور ...

مزید پڑھیے

ورق ورق جو زمانے کے شاہکار میں تھا

ورق ورق جو زمانے کے شاہکار میں تھا وہ زندگی کا صحیفہ بھی انتشار میں تھا جسے میں ڈھونڈ رہا تھا نوائے بلبل میں وہ نغمہ پیرہن گل کے تار تار میں تھا میں قتل ہو کے زمانے میں سرفراز رہا کہ میری جیت کا پہلو بھی میری ہار میں تھا کلیجے سارے درختوں کے سہمے جاتے تھے ہوا کا رخ تھا بھلا کس ...

مزید پڑھیے

میں اک مسافر تنہا مرا سفر تنہا

میں اک مسافر تنہا مرا سفر تنہا دیار غیر میں پھرتا ہوں در بدر تنہا مرے خلاف تمام آندھیاں زمانے کی میں اک چراغ صداقت کی راہ پر تنہا ہے ایک بھیڑ مگر کوئی بھی رفیق نہیں میں سوچتا ہوں کہ میں بھی ہوں کس قدر تنہا نہ مٹے مٹ سکیں تنہائیاں مقدر کی کہ رہ کے باغ میں بھی ہے شجر شجر تنہا ترے ...

مزید پڑھیے

جفائے دل شکن

یہ نئی ہے گردش چرخ کہن دشمن جاں ہے جفائے دل شکن وہ بلا آئی گئی ہے دل پہ بن اب نہیں ہے ہائے جائے دم زدن پا برہنہ گھر سے نکلے مرد و زن لوگ دہلی کے ہیں سارے نعرہ زن پہلے محشر سے قیامت آ گئی حشر کے سر پر مصیبت آ گئی لب پہ گردوں کے شکایت آ گئی جان پر افسوس آفت آ گئی پا برہنہ گھر سے نکلے ...

مزید پڑھیے

یہاں مصروف ہو کر بھی رہا بے کار اتنا ہی

یہاں مصروف ہو کر بھی رہا بے کار اتنا ہی نہ کوئی عشق تھا ایسا مگر میں خار اتنا ہی بچھڑنے پر تلا جب وہ سنی کوئی نہیں اس نے کہ آخر سارے میں تھا میں بھی حصے دار اتنا ہی بظاہر تو یہی لگتا ہے سب آسان ہی ہوگا حقیقت میں مگر یہ کام ہے دشوار اتنا ہی اب اس نے کوئی لکھ کر تو نہیں دینی ہمیں یہ ...

مزید پڑھیے

سب سے الگ ہوں لیکن اکیلا نہیں بنا

سب سے الگ ہوں لیکن اکیلا نہیں بنا اوروں سا ہو کے بھی کسی جیسا نہیں بنا دنیا بھی وہ نہیں بنی جو ہونی چاہیے سو کیا ہوا اگر وہ ہمارا نہیں بنا سب فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہوتے ہیں میں جان بوجھ کر بہت اچھا نہیں بنا وہ بن گیا جو بننا نہیں چاہتا تھا میں خواہش تھی جیسا بننے کی ویسا نہیں ...

مزید پڑھیے

آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہے

آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہے صورت غیر کہاں ہے یہ خیال اپنا ہے بس کہ ہوں ہیچ مداں اس پہ میں کرتا ہوں گھمنڈ بے کمالی میں مجھے اپنی کمال اپنا ہے نالہ و آہ ہے یا گریہ و زاری ہے یہاں پوچھتے کیا ہو جو کچھ ہجر میں حال اپنا ہے طالب اک بوسے کا ہوں دیتے ہو کیا صاف جواب کچھ بہت بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4059 سے 5858