تاریکیوں میں اپنی ضیا چھوڑ جاؤں گا
تاریکیوں میں اپنی ضیا چھوڑ جاؤں گا گزروں گا میں تو نقش وفا چھوڑ جاؤں گا دنیا کے لوگ سنتے رہیں گے تمام عمر لفظوں میں اپنے دل کی صدا چھوڑ جاؤں گا اپنے لہو سے پھول کھلا کر حیات کے ہر سمت خوشبوؤں کی فضا چھوڑ جاؤں گا رکھیں گی یاد حسن کی رعنائیاں مجھے وہ گلستاں میں رنگ نیا چھوڑ جاؤں ...