شاعری

اڑنا تو بہت اڑنا افلاک پہ جا رہنا

اڑنا تو بہت اڑنا افلاک پہ جا رہنا ہم نے کہاں سیکھا ہے زیر کف پا رہنا آنکھوں کو کھلا رکھنا کس کے لئے آساں ہے یاں کس کو گوارا ہے آنکھوں کا کھلا رہنا جو موجۂ باد آیا زردی کا پیمبر تھا اعجاز سے کیا کم ہے پیڑوں کا ہرا رہنا باغوں میں خراماں تھی شہروں میں پریشاں ہے خوشبو کو نہ راس آیا ...

مزید پڑھیے

تیز ہواؤ اب ڈرنا گھبرانا کیسا

تیز ہواؤ اب ڈرنا گھبرانا کیسا چلنا ہی ٹھہرا تو شور مچانا کیسا آنگن آنگن میں ویرانی ناچ رہی ہے ساز اٹھانا کیسا نغمہ گانا کیسا شام ڈھلے سے آسیبوں کا ڈنکا باجے پورن ماشی میں بھی باہر آنا کیسا اے سیاحو یہ تو دلدل کی وادی ہے اس میں اترے ہو تو جان بچانا کیسا سارے موسم ایک تسلسل میں ...

مزید پڑھیے

بوسیدہ عمارات کو مسمار کیا ہے

بوسیدہ عمارات کو مسمار کیا ہے ہم لوگوں نے ہر راہ کو ہموار کیا ہے یوں مرکزی کردار میں ہم ڈوبے ہیں جیسے خود ہم نے ڈرامے کا یہ کردار کیا ہے دیوار کی ہر خشت پہ لکھے ہیں مطالب یوں شہر کو آئینۂ اظہار کیا ہے بینائی مرے شہر میں اک جرم ہے لیکن ہر آنکھ کو رنگوں نے گرفتار کیا ہے درپیش ابد ...

مزید پڑھیے

منتشر ہو کر رہے یہ ایسا شیرازہ نہ تھا

منتشر ہو کر رہے یہ ایسا شیرازہ نہ تھا خاک ہو جانا مرے ہونے کا خمیازہ نہ تھا میں بطون ذات میں اور تو خلا میں گم رہا خاک کے جوہر کا ہم دونوں کو اندازہ نہ تھا آب پاشی سے رہے غافل شجرکاری کے بعد اب جو دیکھا ایک پودا بھی تر و تازہ نہ تھا ہم میں جو آزاد تھا آزاد تر ہو کر رہا اب وہی بے ...

مزید پڑھیے

کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں

کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں ایک سورج ڈھونڈھتا ہوں جو کہ سپنوں میں نہیں دیکھتا رہتا ہوں مٹتے شہر کے نقش و نگار آنکھ میں وہ صورتیں بھی ہیں کہ گلیوں میں نہیں موسموں کا رخ ادھر کو ہے ہواؤں کا ادھر جنگلوں میں بات کوئی ہے کہ شہروں میں نہیں پیلی پیلی تتلیاں ہیں اور ...

مزید پڑھیے

ایک میں ہوں اور لاکھ مسائل خدا گواہ

ایک میں ہوں اور لاکھ مسائل خدا گواہ دست طلب ہے کاسۂ سائل خدا گواہ آنکھیں کھلیں تو اور ہی منظر تھا روبرو خود میں تھا اپنی راہ میں حائل خدا گواہ یہ کائنات رقص میں ہے اک مرے لئے پہنے ہوئے نجوم کی پائل خدا گواہ دل میں محبتیں ہیں تو آنکھوں میں حیرتیں میرے فقط یہی ہیں وسائل خدا ...

مزید پڑھیے

رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے

رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے بہلائے جاتے ہیں یہاں پیاسے سراب سے دن میں بھی گھر اجالے سے محروم ہے تو ہے کرنوں کا کیا سوال کروں آفتاب سے بالکل درست ہوتے ہوئے فیل ہو گیا میں نے جواب نقل کیا تھا کتاب سے وہ سال ہو کہ ماہ ہو دن ہو کہ ہو گھڑی باقی نہیں بچوں گا کسی کے حساب سے ہر شے پر ...

مزید پڑھیے

ہیں اور کئی ریت کے طوفاں مرے آگے

ہیں اور کئی ریت کے طوفاں مرے آگے پھیلے گا ابھی اور بیاباں مرے آگے باہر نہیں کوئی بھی مری حد نظر سے مخفی ہے کوئی کوئی نمایاں مرے آگے ہستی مری صحرا ہے سراب اس کا مقدر آخر اسے ہونا ہے پشیماں مرے آگے ہوں میل کے پتھر کی طرح راہ گزر میں منزل پہ نظر رکھتے ہیں انساں مرے آگے طے ہو نہ ...

مزید پڑھیے

آگے آگے شر پھیلاتا جاتا ہوں

آگے آگے شر پھیلاتا جاتا ہوں پیچھے پیچھے اپنی خیر مناتا ہوں پتھر کی صورت بے حس ہو جاتا ہوں کیسی کیسی چوٹیں سہتا رہتا ہوں آخر اب تک کیوں نہ تمہیں آیا میں نظر جانے کہاں کہاں تو دیکھا جاتا ہوں سانسوں کے آنے جانے سے لگتا ہے اک پل جیتا ہوں تو اک پل مرتا ہوں دریا بالو مورم ڈھو کر ...

مزید پڑھیے

مجھے غبار اڑاتا ہوا سوار لگا

مجھے غبار اڑاتا ہوا سوار لگا مرا قیاس ہواؤں کو ناگوار لگا اچھالنے میں تجھے کتنے ہاتھ شامل تھے کنارے بیٹھ کے لہروں کا کچھ شمار لگا وہ بوڑھا پیڑ جو تھا برگ و بار سے محروم ہم اس سے لگ کے جو بیٹھے تو سایہ دار لگا عبور دریا کو کرتا رہا مگر اک بار ہوئے جو شل مرے بازو تو بے کنار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4037 سے 5858