شاعری

قدموں سے میرے گرد سفر کون لے گیا

قدموں سے میرے گرد سفر کون لے گیا منزل پہ راستے کی خبر کون لے گیا روئے افق سے نور سحر کون لے گیا اس اوج تک کمند نظر کون لے گیا رکھ دی گئی تھی قدموں پہ اس کے اتار کر دستار جانتی ہے کہ سر کون لے گیا اس سطح پر کسے تھا مری ذات کا شعور اتنی تہوں میں آ کے گہر کون لے گیا سوکھے درخت نیزوں ...

مزید پڑھیے

میرے لب تک جو نہ آئی وہ دعا کیسی تھی

میرے لب تک جو نہ آئی وہ دعا کیسی تھی جانے اس راہ میں مرضئ خدا کیسی تھی جس کو ہنگامۂ ہستی نے ابھرنے نہ دیا جس کو ہم سن نہیں پائے وہ صدا کیسی تھی میرا آئینۂ احساس شکستہ تھا اگر صورت حال مری تو ہی بتا کیسی تھی اب جو آزاد ہوئے ہیں تو خیال آیا ہے کہ ہمیں قید بھلی تھی تو سزا کیسی ...

مزید پڑھیے

جھلکتی ہے مری آنکھوں میں بیداری سی کوئی

جھلکتی ہے مری آنکھوں میں بیداری سی کوئی دبی ہے جیسے خاکستر میں چنگاری سی کوئی تڑپتا تلملاتا رہتا ہوں دریا کی مانند پڑی ہے ضرب احساسات پر کاری سی کوئی نہ جانے قید میں ہوں یا حفاظت میں کسی کی کھنچی ہے ہر طرف اک چار دیواری سی کوئی کسی بھی موڑ سے میرا گزر مشکل نہیں ہے مرے پیروں ...

مزید پڑھیے

فراخ دست کا یہ حسن تنگ دستی ہے

فراخ دست کا یہ حسن تنگ دستی ہے جو ایک بوند کی مانند بحر ہستی ہے وہ جس کو ناپئے تو ٹھہرتی نہیں ہے کہیں اسی زمین پہ کل کائنات بستی ہے گھٹا تو جھوم کے آتی ہے آئے دن لیکن جہاں برسنا ہو کم کم وہاں برستی ہے زمین کرتی ہے مجھ کو اشارۂ پرواز مری تمام بلندی رہین پستی ہے اب اور دیر نہ کر ...

مزید پڑھیے

نایاب چیز کون سی بازار میں نہیں

نایاب چیز کون سی بازار میں نہیں لیکن میں ان کے چند خریدار میں نہیں چھو کر بلندیوں کو پلٹنا ہے اب مجھے کھانے کو میرے گھاس بھی کہسار میں نہیں آتا تھا جس کو دیکھ کے تصویر کا خیال اب تو وہ کیل بھی مری دیوار میں نہیں عرفان و آگہی کی یہ ہم کس ہوا میں ہیں جنبش تک اس کے پردۂ اسرار میں ...

مزید پڑھیے

چھت پہ بدلی جھکی سی رہتی ہے

چھت پہ بدلی جھکی سی رہتی ہے کب سے بارش تھمی سی رہتی ہے کوئی شب دھوپ کی سی کیفیت کوئی دن چاندنی سی رہتی ہے ایک ہستی مری عناصر چار ہر طرف سے گھری سی رہتی ہے کیسے جی بھر کے دیکھیے اس کو دیکھنے میں کمی سی رہتی ہے کوئی اک ذائقہ نہیں ملتا غم میں شامل خوشی سی رہتی ہے جب سے مائل ہوئے ...

مزید پڑھیے

نہیں ہے بحر و بر میں ایسا میرے یار کوئی

نہیں ہے بحر و بر میں ایسا میرے یار کوئی کہ جس خطے کا ملتا ہو نہ دعویدار کوئی یوں ہی بنیاد کا درجہ نہیں ملتا کسی کو کھڑی کی جائے گی مجھ پر ابھی دیوار کوئی پتا چلنے نہیں دیتا کبھی فریادیوں کو لگا کر بیٹھ جاتا ہے کہیں دربار کوئی نگاہیں اس کے چہرے سے نہیں ہٹتیں جو دیکھوں کہ ہے اس کے ...

مزید پڑھیے

بڑھا جب اس کی توجہ کا سلسلہ کچھ اور

بڑھا جب اس کی توجہ کا سلسلہ کچھ اور خوشی سے پھیل گیا غم کا دائرہ کچھ اور نتیجہ دیکھ کے مانا مرے مسیحا نے کچھ اور درد تھا میرا ہوئی دوا کچھ اور میں اپنے آپ کو کس آئینے میں پہچانوں کہ ایک عکس مرا کچھ ہے دوسرا کچھ اور اگر کہیں کوئی دیوار سامنے آئی بلند ہو گیا پانی کا حوصلہ کچھ ...

مزید پڑھیے

حصار جسم مرا توڑ پھوڑ ڈالے گا

حصار جسم مرا توڑ پھوڑ ڈالے گا ضرور کوئی مجھے قید سے چھڑا لے گا بنا کے جس نے مجھے شاہکار پیش کیا ہزار خامیاں مجھ میں وہی نکالے گا میں اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے چلتا ہوں کوئی بہت سے بہت مجھ سے اور کیا لے گا رکے ہوئے ہیں کئی کارواں لب دریا کہ جیسے آگے کوئی راستہ نکالے گا اک اجنبی ...

مزید پڑھیے

مری صفات کا جب اس نے اعتراف کیا

مری صفات کا جب اس نے اعتراف کیا بجائے چہرہ کے آئینہ میں نے صاف کیا چھپا تھا ہیرا کوئی راستے کے پتھر میں ہماری ٹھوکروں نے اس کا انکشاف کیا موافقت میں چلی تھی مرے سفینے کی ہوا نے بیچ سمندر میں اختلاف کیا گہر بنا کے صدف نے اسے نکالا ہے کبھی جو بوند نے دریا سے انحراف کیا زمین ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4038 سے 5858