شاعری

دل سے دل کا راستہ بھی آزمانا چاہیے

دل سے دل کا راستہ بھی آزمانا چاہیے روٹھ جائے کوئی تو اس کو منانا چاہیے بعد مدت کے وہ مل جائے کسی محفل میں تو حال اپنا بھی اسے پھر کچھ سنانا چاہیے زندگی جب چھیڑ دیتی ہے غلط دھن کوئی بھی بحر یا پھر قافیہ اس میں لگانا چاہیے یوں تو آندھی میں دیا روشن رہے ممکن نہیں کچھ محبت کے ...

مزید پڑھیے

جو کبھی اپنے تھے وہ ہوئے دور ہیں

جو کبھی اپنے تھے وہ ہوئے دور ہیں ہم بھی تھک ہار کے ہو گئے چور ہیں خوب چرچے ہیں اب اپنے بھی غیروں میں کل جو بدنام تھے آج مشہور ہیں اوروں سے کرتے ہیں ہنس کے وہ بات یوں کس کی آنکھوں کے وہ بن گئے نور ہیں زندہ دل بن گزاری ہے یہ زندگی جو ہوا پیار تو کیسے مجبور ہیں کس کے وعدے پہ ہم نے ...

مزید پڑھیے

کسی پتھر کو چاہا ہے یہ دل کیسا دوانہ ہے

کسی پتھر کو چاہا ہے یہ دل کیسا دوانہ ہے محبت ہے اسے اس سے جسے چاہے زمانا ہے کروں آنکھیں جو اپنی بند دکھ چہرہ وہ جاتا ہے کبھی چھوٹے گا نہ مر کے بھی یہ رشتہ پرانا ہے مرے مرنے کے ہیں جھگڑے تو مجھ کو مر ہی جانے دو مری ہی غلطی ہے ساری تمہارا یہ بہانا ہے دو موتی دیکھے ہیں میں نے بچھڑتے ...

مزید پڑھیے

کہنے سننے کا عجب دونوں طرف جوش رہا

کہنے سننے کا عجب دونوں طرف جوش رہا شہر کی باتوں پہ صحرا ہمہ تن گوش رہا آنکھوں آنکھوں میں وضاحت سے ہوا کیں باتیں چپ نہ محفل میں وہ بیٹھا نہ میں خاموش رہا رکھ دیا وقت نے آئینہ بنا کر مجھ کو رو بہ رو ہوتے ہوئے بھی میں فراموش رہا مدتوں بعد نقاب اس نے اٹھائی رخ سے سر بسر شعلہ وہ نکلا ...

مزید پڑھیے

ابل پڑا یک بیک سمندر تو میں نے دیکھا

ابل پڑا یک بیک سمندر تو میں نے دیکھا کھلا جو راز سکوت لب پر تو میں نے دیکھا اتر گیا رنگ روئے منظر تو میں نے دیکھا ہٹی نگاہ بہار یکسر تو میں نے دیکھا نہ جانے کب سے وہ اندر اندر سلگ رہا تھا ملا جو دیوار میں مجھے در تو میں نے دیکھا تمام گرد و غبار دل سے نکل چکا تھا برس چکا ابر اشک ...

مزید پڑھیے

مری گرفت میں ہے طائر خیال مرا

مری گرفت میں ہے طائر خیال مرا مگر اڑائے لیے جا رہا ہے جال مرا یقین اتنا نہیں میرا جتنا نبض کا ہے مری زبان سے سنتا نہیں وہ حال مرا کمال کی وہ عمارت مری ہوئی مسمار کھنڈر کی شکل میں باقی رہا زوال مرا فضا میں جھونک دے آندھی کے بعد پانی بھی اڑائی خاک تو اب خون بھی اچھال مرا زبان ...

مزید پڑھیے

پست و بلند میں جو تجھے رشتہ چاہئے

پست و بلند میں جو تجھے رشتہ چاہئے ملنے کو تجھ سے چھت پہ مجھے زینہ چاہئے یہ کون آ گیا ہے مرے اس کے درمیاں دیوار ہے تو اس میں مجھے رخنہ چاہئے تعمیر کے لیے مجھے درکار ایک عمر تخریب کے لیے مجھے اک لمحہ چاہئے یاروں نے میری راہ میں دیوار کھینچ کر مشہور کر دیا کہ مجھے سایہ چاہئے ملنے ...

مزید پڑھیے

برق کا ٹھیک اگر نشانہ ہو

برق کا ٹھیک اگر نشانہ ہو بند کاہے کو کارخانہ ہو دیکھنے سننے کا مزہ جب ہے کچھ حقیقت ہو کچھ فسانہ ہو موت ہر وقت آنا چاہتی ہے کوئی حیلہ کوئی بہانہ ہو راہ سے سنگ و خشت ہٹ جائیں نیکیوں کا اگر زمانہ ہو مجھ کو خواب و خیال ہے منزل قافلہ شوق سے روانہ ہو کیا تعجب کہ پیچھے پیچھے مرے آنے ...

مزید پڑھیے

تعبیروں سے بند قبائے خواب کھلے

تعبیروں سے بند قبائے خواب کھلے مجھ پر میرے مستقبل کے باب کھلے جس کے ہاتھوں بادبان کا زور بندھا اسی ہوا کے ناخن سے گرداب کھلے اس نے جب دروازہ مجھ پر بند کیا مجھ پر اس کی محفل کے آداب کھلے رہی ہمیشہ گہرائی پر مری نظر بھید سمندر کے سب زیر آب کھلے دل کے سوا وہ اور کہیں رہتا ہے ...

مزید پڑھیے

تارے ہماری خاک میں بکھرے پڑے رہے

تارے ہماری خاک میں بکھرے پڑے رہے یہ کیا کہ تیرے نین فلک سے لڑے رہے ہم تھے سفر نصیب سو منزل سے جا ملے جو سنگ میل تھے وہ زمیں میں گڑے رہے لوگوں نے اینٹ اینٹ پر قبضہ جما لیا ہم دم بخود مکان سے باہر کھڑے رہے ہم کو تو جھولنا ہی تھا انصاف کے لئے یہ کیل کیوں صلیب میں ناحق جڑے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4036 سے 5858