شاعری

مال و دولت پر اے انساں اتنا کیوں اتراتا ہے

مال و دولت پر اے انساں اتنا کیوں اتراتا ہے بھول کر مسکینوں کو مغرور کیوں بن جاتا ہے حال دل اپنا سنائیں تو سنائیں کیسے ہم روبرو ہو کر بھی وہ ہم سے بڑا شرماتا ہے رہتے ہیں مایوس جو معلوم کر لیں وہ ذرا کہتے ہیں مایوس رہنا کفر تک لے جاتا ہے لوہا تپ کر آگ میں جب سرخ سا ہو جاتا ہے بن کے ...

مزید پڑھیے

عمر جو بے خودی میں گزری ہے

عمر جو بے خودی میں گزری ہے بس وہی آگہی میں گزری ہے کوئی موج نسیم سے پوچھے کیسی آوارگی میں گزری ہے ان کی بھی رہ سکی نہ دارآئی جن کی اسکندری میں گزری ہے آسرا ان کی رہبری ٹھہری جن کی خود رہزنی میں گزری ہے آس کے جگنوؤ سدا کس کی زندگی روشنی میں گزری ہے ہم نشینی پہ فخر کر ناداں صحبت ...

مزید پڑھیے

ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے

ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے ہر سر یہی سمجھتا ہے دستار اس سے ہے ہے آگ پیٹ کی تبھی چھم چھم ہے رقص میں پائل سمجھتی ہے کہ یہ جھنکار اس سے ہے امید ان سے کوئی لگانا ہی ہے فضول ہر منتری کی سوچ ہے سرکار اس سے ہے گھر کو بنائیں گھر صدا گھر کے ہی لوگ سب اور آدمی سمجھتا ہے پریوار اس سے ...

مزید پڑھیے

اسی نے پیار بخشا اور اسی نے بندگی بخشی

اسی نے پیار بخشا اور اسی نے بندگی بخشی مرے مالک نے مجھ کو اس جہاں کی ہر خوشی بخشی ادیبوں سے بھری محفل میں آنا تھا کہاں ممکن اسی نے شعر لکھوائے اسی نے شاعری بخشی میں ساگر تھا مجھے خارا نہیں رہنے دیا اس نے کہ لہراتی سی بل کھاتی محبت کی ندی بخشی اندھیروں کے گھنے سایوں کا قبضہ تھا ...

مزید پڑھیے

حصے میں آئے میرے صدا ٹکڑے کانچ کے

حصے میں آئے میرے صدا ٹکڑے کانچ کے قسمت نے ہی کیے ہیں عطا ٹکڑے کانچ کے اک وقت تھا دیتے تھے سزا ٹکڑے کانچ کے دینے لگے ہیں اب تو مزا ٹکڑے کانچ کے فطرت میں ان کی دینا چبھن لکھ دیا گیا مجبور ہیں کریں بھی تو کیا ٹکڑے کانچ کے آئینہ دیکھنے کی بھی حسرت نہیں رہی بتلاتے ہیں مری ہی خطا ٹکڑے ...

مزید پڑھیے

رکھ دیا ہے آدمی نے آئنے پر آئنہ

رکھ دیا ہے آدمی نے آئنے پر آئنہ دیکھ کر انسان کو ہے آج ششدر آئنہ پیاس آنسو درد و غم ہیں سب مرے بھیتر چھپے ہنس دیا ہے اصلیت مجھ کو دکھا کر آئنہ دیکھنا جو چاہتا میں دیکھتا مجھ کو وہی سچ نہیں یہ ہے دکھاتا سچ مجھے ہر آئنہ لاکھ میں دنیا کو دھوکا دوں لگاتا ہے مگر اصل چہرہ سامنے لانے ...

مزید پڑھیے

نہ ثانی جب مذاق حسن کو اپنا نظر آیا

نہ ثانی جب مذاق حسن کو اپنا نظر آیا نگاہ شوق تک لے کر پیام فتنہ‌ گر آیا کہا لا ریب بڑھ کر علم و دانش نے عقیدت سے جو بزم اہل فن میں آج مجھ سا بے ہنر آیا سر محفل چرانا مجھ سے دامن اس کا ضامن ہے نہیں آیا اگر مجھ تک بہ انداز دگر آیا بہت اے دل تری روداد غم نے طول کھینچا ہے کبھی وہ بت ...

مزید پڑھیے

فلاح آدمیت میں صعوبت سہہ کے مر جانا

فلاح آدمیت میں صعوبت سہہ کے مر جانا یہی ہے کام کر جانا یہی ہے نام کر جانا جہاں انسانیت وحشت کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہو جہاں تذلیل ہے جینا وہاں بہتر ہے مر جانا یوں ہی دیر و حرم کی ٹھوکریں کھاتے پھرے برسوں تری ٹھوکر سے لکھا تھا مقدر کا سنور جانا سکون روح ملتا ہے زمانہ کو ترے در ...

مزید پڑھیے

زندگی راہ وفا میں جو مٹا دیتے ہیں

زندگی راہ وفا میں جو مٹا دیتے ہیں نقش الفت کا وہ دنیا میں جما دیتے ہیں اس طرح جرم محبت کی سزا دیتے ہیں وہ جسے اپنا سمجھتے ہیں مٹا دیتے ہیں ایک جل روز ہمیں آپ نیا دیتے ہیں وعدۂ وصل کو باتوں میں اڑا دیتے ہیں خم و مینا و سبو بزم میں آتے آتے اپنی آنکھوں سے کئی جام پلا دیتے ہیں حسن ...

مزید پڑھیے

ان کی نظر کا لطف نمایاں نہیں رہا

ان کی نظر کا لطف نمایاں نہیں رہا ہم پر وہ التفات نگاراں نہیں رہا دل بستگی و عیش کا ساماں نہیں رہا خوش باشیٔ حیات کا ساماں نہیں رہا یہ بھی نہیں کہ گل میں لطافت نہیں رہی پر جنت نگاہ گلستاں نہیں رہا ہر بے ہنر سے گرم ہے بازار سفلگی اہل ہنر کے واسطے میداں نہیں رہا اپنی زبان اپنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4031 سے 5858