شاعری

اک نیا کرب مرے دل میں جنم لیتا ہے

اک نیا کرب مرے دل میں جنم لیتا ہے قافلہ درد کا کچھ دیر جو دم لیتا ہے رنگ پاتا ہے مرے خون جگر سے گل شعر سبزۂ فکر مری آنکھ سے نم لیتا ہے آبرو حق و صداقت کی بڑھا دیتا ہے جب بھی سقراط کوئی ساغر سم لیتا ہے رات کے سائے میں شبنم کے گہر ڈھلتے ہیں رات کی کوکھ سے خورشید جنم لیتا ہے ذہن بے ...

مزید پڑھیے

دل بے مدعا ہے اور میں ہوں

دل بے مدعا ہے اور میں ہوں مگر لب پر دعا ہے اور میں ہوں نہ ساقی ہے نہ اب وہ شے ہے باقی مرا دور آ گیا ہے اور میں ہوں ادھر دنیا ہے اور دنیا کے بندے ادھر میرا خدا ہے اور میں ہوں کوئی پرساں نہیں پیر مغاں کا فقط میری وفا ہے اور میں ہوں ابھی میعاد باقی ہے ستم کی محبت کی سزا ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا

او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا ہاں میرے مجروح تبسم خشک لبوں تک آتا جا پھول کی ہست و بود یہی ہے کھلتا جا مرجھاتا جا میری چپ رہنے کی عادت جس کارن بد نام ہوئی اب وہ حکایت عام ہوئی ہے سنتا جا شرماتا جا یہ دکھ درد کی برکھا بندے ...

مزید پڑھیے

کل ضرور آؤ گے لیکن آج کیا کروں

کل ضرور آؤ گے لیکن آج کیا کروں بڑھ رہا ہے قلب کا اختلاج کیا کروں کیا کروں کوئی نہیں احتیاج دوست کو اور مجھ کو دوست کی احتیاج کیا کروں اب وہ فکر مند ہیں کہہ دیا طبیب نے عشق ہے جنوں نہیں میں علاج کیا کروں غیرت رقیب کا شکوہ کر رہے ہو تم اس معاملے میں سخت ہے مزاج کیا کروں ماسوائے ...

مزید پڑھیے

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے تم ہی نہ سن سکے اگر قصۂ غم سنے گا کون کس کی زباں کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے ہوش میں آ چکے تھے ہم جوش میں آ چکے تھے ہم بزم کا رنگ دیکھ کر سر نہ مگر اٹھا سکے رونق بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں دل ...

مزید پڑھیے

ان کو جگر کی جستجو ان کی نظر کو کیا کروں

ان کو جگر کی جستجو ان کی نظر کو کیا کروں مجھ کو نظر کی آرزو اپنے جگر کو کیا کروں رات ہی رات میں تمام طے ہوئے عمر کے مقام ہو گئی زندگی کی شام اب میں سحر کو کیا کروں وحشت دل فزوں تو ہے حال مرا زبوں تو ہے عشق نہیں جنوں تو ہے اس کے اثر کو کیا کروں فرش سے مطمئن نہیں پست ہے نا پسند ہے عرش ...

مزید پڑھیے

یہ کیسے نمو کے سلسلے ہیں

یہ کیسے نمو کے سلسلے ہیں شاخوں پہ گلاب جل بجھے ہیں پھیلی ہے ستم کی آگ ہرسو ہر سمت الاؤ جل رہے ہیں ہر آنکھ سوال کر رہی ہے ہر دل میں ہزار وسوسے ہیں برسی ہیں بلائیں آسماں سے دھرتی پہ عذاب اگ رہے ہیں محفوظ نہیں پناہ گاہیں کیا عقل رسا کے معجزے ہیں بازار لہو کی وحشتوں کے تہذیب کے ...

مزید پڑھیے

ہاتھ میں ہے اک پرانی ڈائری

ہاتھ میں ہے اک پرانی ڈائری کھولنے بیٹھا ہوں گرہیں یاد کی اس سے وعدہ ہے ملیں گے شام کو شام کتنی دیر کے بعد آئے گی ہم نے سوچا تھا چلیں گے سیر کو راستوں نے پھر سفیدی اوڑھ لی گرم کمروں سے نکلتا کون ہے محفلیں اجڑی ہوئی ہیں شہر کی چبھ رہی ہے میری آنکھوں میں بہت چار سو پھیلی ہوئی بے ...

مزید پڑھیے

نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیں

نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیں یہ بے دلی ہے کہ اب انتظار بھی تو نہیں جو بھول جائے کوئی شغل جام و مینا میں غم حبیب غم روزگار بھی تو نہیں مریض بادۂ عشرت یہ اک جہاں کیوں ہے سرور بادہ بقدر خمار بھی تو نہیں متاع صبر و سکوں جس نے دل سے چھین لیا وہ دل نواز ادا آشکار بھی تو نہیں قفس میں ...

مزید پڑھیے

فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سے

فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سے پوچھتے کیا ہو دل نگاروں سے آشیاں تو جلا مگر ہم کو کھیلنا آ گیا شراروں سے کیا ہوا یہ کہ خوں میں ڈوبی ہوئی لپٹیں آتی ہیں لالہ زاروں سے ان میں ہوتے ہیں قافلے پنہاں دل شکستہ نہ ہو غباروں سے ہے یہاں کوئی حوصلے والا کچھ پیام آئے ہیں ستاروں سے ہم سے مہر و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4018 سے 5858