یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیں
یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیں یہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیں ستم ہے اب بھی امید وفا پہ جیتا ہے وہ کم نصیب کہ شائستۂ جفا بھی نہیں نگاہ ناز عبارت ہے زندگی جس سے شریک درد تو کیا درد آشنا بھی نہیں سمجھ رہا ہوں امانت متاع صبر کو میں اگرچہ اب نگہ صبر آزما بھی نہیں وہ ...