نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائے
نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائے شرارت سادگی ہی میں کہیں رسوا نہ ہو جائے انہیں احساس تمکیں ہو کہیں ایسا نہ ہو جائے جو ہونا ہو ابھی اے جرأت رندانہ ہو جائے بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والو کوئی کم بخت ناواقف اگر دیوانہ ہو جائے بہت ہی خوب شے ہے اختیاری شان خودداری اگر معشوق ...