وہ بوڑھا اک خواب ہے اور اک خواب میں آتا رہتا ہے
وہ بوڑھا اک خواب ہے اور اک خواب میں آتا رہتا ہے اس کے سر پر ان دیکھا پنچھی منڈلاتا رہتا ہے ناٹک کے کرداروں میں کچھ سچے ہیں کچھ جھوٹے ہیں پردے کے پیچھے کوئی ان کو سمجھاتا رہتا ہے بستی میں جب چاک گریباں گریہ کرتے پھرتے ہیں اس موسم میں ایک رفو گر ہنستا گاتا رہتا ہے ہر کردار کے ...