یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ہٹا رہا ہوں معاف کرنا
یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ہٹا رہا ہوں معاف کرنا بغیر اجازت میں دن کو بستی میں لا رہا ہوں معاف کرنا زمین بنجر تھی تم سے پہلے پہاڑ خاموش دشت خالی کہانیو میں تمہیں کہانی سنا رہا ہوں معاف کرنا کچھ اتنے کل جمع ہو گئے ہیں کہ آج کم پڑتا جا رہا ہے میں ان پرندوں کو اپنی چھت سے اڑا رہا ہوں ...