شاعری

یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ہٹا رہا ہوں معاف کرنا

یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ہٹا رہا ہوں معاف کرنا بغیر اجازت میں دن کو بستی میں لا رہا ہوں معاف کرنا زمین بنجر تھی تم سے پہلے پہاڑ خاموش دشت خالی کہانیو میں تمہیں کہانی سنا رہا ہوں معاف کرنا کچھ اتنے کل جمع ہو گئے ہیں کہ آج کم پڑتا جا رہا ہے میں ان پرندوں کو اپنی چھت سے اڑا رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں

اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں گمشدہ چیزوں کے اندر لاپتہ رہتا ہوں میں جتنی باتیں یاد آتی ہیں وہ لکھ لیتا ہوں سب اور پھر ایک ایک کر کے بھولتا رہتا ہوں میں گرم جوشی نے مجھے جھلسا دیا تھا ایک دن اندروں کے سرد خانے میں پڑا رہتا ہوں میں خرچ کر دیتا ہوں سب موجود اپنے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

مجھے زمان و مکاں کی حدود میں نہ رکھ

مجھے زمان و مکاں کی حدود میں نہ رکھ صدا و صوت کی اندھی قیود میں نہ رکھ میں تیرے حرف دعا سے بھی ماورا ہوں میاں مجھے تو اپنے سلام و درود میں نہ رکھ کلیم وقت کے در کو جبیں ترستی ہے امیر شہر کے بیکل سجود میں نہ رکھ نظام قیصر و کسری کی میں روانی ہوں وجوب عین ہوں صاحب شہود میں نہ ...

مزید پڑھیے

رات گزری نہ کم ستارے ہوئے

رات گزری نہ کم ستارے ہوئے منکشف ہم پہ ہجر سارے ہوئے ناؤ دو لخت ہو گئی اک دن دو مسافر تھے دو کنارے ہوئے پھول دلدل میں کھل رہا ہے یہاں ہم ہیں اک جسم پر اتارے ہوئے جانے کس وقت نیند آئی ہمیں جانے کس وقت ہم تمہارے ہوئے مدتوں بعد کام آئے ہیں چند لمحے کہیں گزارے ہوئے اپنی چھت پر اداس ...

مزید پڑھیے

شب میں دن کا بوجھ اٹھایا دن میں شب بے داری کی

شب میں دن کا بوجھ اٹھایا دن میں شب بے داری کی دل پر دل کی ضرب لگائی ایک محبت جاری کی کشتی کو کشتی کہہ دینا ممکن تھا آسان نہ تھا دریاؤں کی خاک اڑائی ملاحوں سے یاری کی کوئی حد کوئی اندازہ کب تک کرتے جانا ہے خندق سے خاموشی گہری اس سے گہری تاریکی اک تصویر مکمل کر کے ان آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو یہ وقت وقت کو میں کھو کے خوش ہوا

مجھ کو یہ وقت وقت کو میں کھو کے خوش ہوا کاٹی نہیں وہ فصل جسے بو کے خوش ہوا وہ رنج تھا کہ رنج نہ کرنا محال تھا آخر میں ایک شام بہت رو کے خوش ہوا صاحب وہ بو گئی نہ وہ نشہ ہوا ہوا اپنے تئیں میں جام و سبو دھو کے خوش ہوا ایسی خوشی کے خواب سے جاگا کہ آج تک خوش ہو کے سو سکا نہ کبھی سو کے ...

مزید پڑھیے

پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم

پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم نادیدہ دوستوں کا پتا کر رہے ہیں ہم دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس اور اس کے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم پلکیں جھپک جھپک کے اڑاتے ہیں نیند کو سوئے ہوؤں کا قرض ادا کر ...

مزید پڑھیے

کسی کا خواب کسی کا قیاس ہے دنیا

کسی کا خواب کسی کا قیاس ہے دنیا مرے عزیز یہاں کس کے پاس ہے دنیا یہ خون اور پسینے کی بو نہیں جاتی نہ جانے کس کے بدن کا لباس ہے دنیا ہمارے حلق سے اک گھونٹ بھی نہیں اتری بس ایک اور ہی دنیا کی پیاس ہے دنیا مرے قلم کی سیاہی کا ایک قطرہ ہے مری کتاب سے اک اقتباس ہے دنیا

مزید پڑھیے

یوں جو پلکوں کو ملا کر نہیں دیکھا جاتا

یوں جو پلکوں کو ملا کر نہیں دیکھا جاتا ہر طرف ایک ہی منظر نہیں دیکھا جاتا کام اتنے ہیں بیابانوں کے ویرانوں کے شام ہو جاتی ہے اور گھر نہیں دیکھا جاتا جھانک لیتے ہیں گریباں میں یہی ممکن ہے ایسی پستی ہے کہ اوپر نہیں دیکھا جاتا جس کو خوابوں کو ضرورت ہو اٹھا کر لے جائے ہم سے اب اور ...

مزید پڑھیے

میں جہاں تھا وہیں رہ گیا معذرت

میں جہاں تھا وہیں رہ گیا معذرت اے زمیں معذرت اے خدا معذرت کچھ بتاتے ہوئے کچھ چھپاتے ہوئے میں ہنسا معذرت رو دیا معذرت خود تمہاری جگہ جا کے دیکھا ہے اور خود سے کی ہے تمہاری جگہ معذرت جو ہوا جانے کیسے ہوا کیا خبر جو کیا وہ نہیں ہو سکا معذرت میں کہ خود کو بچانے کی کوشش میں تھا ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 147 سے 5858