پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم

پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم
نادیدہ دوستوں کا پتا کر رہے ہیں ہم


دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس
اور اس کے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم


اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم


پلکیں جھپک جھپک کے اڑاتے ہیں نیند کو
سوئے ہوؤں کا قرض ادا کر رہے ہیں ہم


کب سے کھڑے ہوئے ہیں کسی گھر کے سامنے
کب سے اک اور گھر کا پتا کر رہے ہیں ہم


اب تک کوئی بھی تیر ترازو نہیں ہوا
تبدیل اپنے دل کی جگہ کر رہے ہیں ہم


ہاتھوں کے ارتعاش میں باد مراد ہے
چلتی ہیں کشتیاں کہ دعا کر رہے ہیں ہم


واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں
منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم


عادلؔ سجے ہوئے ہیں سبھی خواب خوان پر
اور انتظار خلق خدا کر رہے ہیں ہم