شاعری

بے مروت ہیں تو واپس ہی اٹھا لے شب و روز

بے مروت ہیں تو واپس ہی اٹھا لے شب و روز مجھ کو بھاتے نہیں یہ تیرے نرالے شب و روز ایک امید کا تارہ ہے سر بام ابھی اس کی کرنوں سے ہی ہم نے ہیں اجالے شب و روز جو تری یاد کے سائے میں گزارے ہم نے ہیں وہی زیست کے انمول حوالے شب و روز دشت سے خاک اٹھا لایا تھا اجداد کی میں گھر میں رکھے تو ...

مزید پڑھیے

شعور و فکر سے آگے نکل بھی سکتا ہے

شعور و فکر سے آگے نکل بھی سکتا ہے مرا جنون ہواؤں پہ چل بھی سکتا ہے مرے گماں پہ اٹھاؤ نہ انگلیاں صاحب گماں یقیں میں یقیناً بدل بھی سکتا ہے پہاڑ اپنی قدامت پہ یوں نہ اترائیں ابھر گیا کوئی ذرہ نگل بھی سکتا ہے مرے لبوں پہ جمی برف سوچ کر چھونا تمہارے جسم کا آہن پگھل بھی سکتا ...

مزید پڑھیے

بے چینی کے لمحے سانسیں پتھر کی

بے چینی کے لمحے سانسیں پتھر کی صدیوں جیسے دن ہیں راتیں پتھر کی پتھرائی سی آنکھیں چہرے پتھر کے ہم نے دیکھیں کتنی شکلیں پتھر کی گورے ہوں یا کالے سر پر برسے ہیں پرکھی ہم نے ساری ذاتیں پتھر کی نیلامی کے در پر بے بس شرمندہ خاموشی میں لپٹی آنکھیں پتھر کی دل کی دھڑکن بڑھتی جائے سن ...

مزید پڑھیے

تم جو چھالوں کی بات کرتے ہو

تم جو چھالوں کی بات کرتے ہو کیوں ہمالوں کی بات کرتے ہو کس کے ہاتھوں میں تھا نہیں پتھر شام والوں کی بات کرتے ہو اپنے چہرے پہ پوت کر کالک تم اجالوں کی بات کرتے ہو خشک روٹی تو دے نہیں سکتے تر نوالوں کی بات کرتے ہو جو نمک ہیں ہمارے زخموں پر ان حوالوں کی بات کرتے ہو چھین کر ہم سے ...

مزید پڑھیے

مری خاک میں ولا کا نہ کوئی شرار ہوتا

مری خاک میں ولا کا نہ کوئی شرار ہوتا نہ ہی دل سے آگ اٹھتی نہ یہ بے قرار ہوتا مرے سر پہ ہاتھ رکھنا جو ترا شعار ہوتا میں نہ در بدر بھٹکتا کہیں آر پار ہوتا میں رہین قلب مضطر تو چراغ شادمانی تری محفل طرب میں کہاں دل فگار ہوتا تری بے خودی نے اے دل کسی کام کا نہ چھوڑا تری بات ٹال دیتا ...

مزید پڑھیے

رہرو راہ خرابات چمن

رہرو راہ خرابات چمن تو سوار شوق سلطانی میں فن تیشۂ عزم جواں دامن میں رکھ آ کے پھر اک بار ہو جا کوہ کن کوئی سایہ زندگی کا گر ملے چاک گل ہو کر پہن لینا کفن کس نے دی ہے اس کے ہاتھوں میں عناں بانٹتا ہے شہر میں مغرب کا دھن جس میں تھی تہہ داریٔ منصوریت وہ انا الحق کا کہاں ہے ...

مزید پڑھیے

بال بال دنیا پر اس کا ہی اجارہ ہے

بال بال دنیا پر اس کا ہی اجارہ ہے وقت خالی ہاتھوں سے ہم نے بھی گزارا ہے کو بہ کو برستا ہے یم بہ یم ابلتا ہے خون آدمیت سے نقش لا سنوارا ہے لے چلو چراغوں کو کر کے خون سے روشن دشت کی سیاہی نے ہم کو بھی پکارا ہے زاد راہ کا ہم سے کیوں سوال کرتے ہو رہزنوں کے نرغے میں جب ہمیں اتارا ہے ہر ...

مزید پڑھیے

سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے

سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے مجھ میں پھیلنے لگ جاتی ہے خوشبو اپنی مرضی سے ہر منظر کو مجمع میں سے یوں اٹھ اٹھ کر دیکھتے ہیں ہو سکتا ہے شہرت پا لیں ہم اپنی دلچسپی سے ان آنکھوں سے دو اک آنسو ٹپکے ہوں تو یاد نہیں ہم نے اپنا وقت گزارا ہر ممکن خاموشی سے برف جمی ہے منزل منزل ...

مزید پڑھیے

اشک گرنے کی صدا آئی ہے

اشک گرنے کی صدا آئی ہے بس یہی راحت گویائی ہے سطح پر تیر رہے ہیں دن رات نیند اک خواب کی گہرائی ہے ان پرندوں کا پلٹ کر آنا اک تخیل کی پذیرائی ہے عکس بھی غیر ہے آئینہ بھی یہ تحیر ہے کہ تنہائی ہے ان دریچوں سے کہ جو تھے ہی نہیں اک اداسی ہے کہ در آئی ہے دل نمودار ہوا ہے دل میں آنکھ اک ...

مزید پڑھیے

کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا

کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا پرندوں کو کسی بھی شکل میں آنا پڑے گا خود اپنے سامنے آتے ہوئے حیران ہیں ہم ہمیں اب اس گلی سے گھوم کر جانا پڑے گا اسے یہ گھر سمجھنے لگ گئے ہیں رفتہ رفتہ پرندوں سے قفس آمادہ کروانا پڑے گا اداسی وزن رکھتی ہے جگہ بھی گھیرتی ہے ہمیں کمرے کو خالی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 146 سے 5858