یہ جو ہم اطلس و کمخواب لیے پھرتے ہیں
یہ جو ہم اطلس و کمخواب لیے پھرتے ہیں عظمت رفتہ کے آداب لیے پھرتے ہیں دیکھ کر ان کو لرز جاتی ہے ہر موج بلا اپنی کشتی میں جو گرداب لیے پھرتے ہیں تیر کتنے ہیں لعیں اور ترے ترکش میں دیکھ ہم سینۂ بیتاب لیے پھرتے ہیں دیکھنا ان کو بھی ڈس لے گی کڑے وقت کی دھوپ وہ جو کچھ خواہش شاداب لیے ...