شاعری

یہ جو ہم اطلس و کمخواب لیے پھرتے ہیں

یہ جو ہم اطلس و کمخواب لیے پھرتے ہیں عظمت رفتہ کے آداب لیے پھرتے ہیں دیکھ کر ان کو لرز جاتی ہے ہر موج بلا اپنی کشتی میں جو گرداب لیے پھرتے ہیں تیر کتنے ہیں لعیں اور ترے ترکش میں دیکھ ہم سینۂ بیتاب لیے پھرتے ہیں دیکھنا ان کو بھی ڈس لے گی کڑے وقت کی دھوپ وہ جو کچھ خواہش شاداب لیے ...

مزید پڑھیے

زنگ آلود زباں تک پہونچی ہونٹوں کی مقراض

زنگ آلود زباں تک پہونچی ہونٹوں کی مقراض خاموشی کی جھیل میں ڈوبی پسماندہ آواز کاغذ پر الجھاتے رہئے شبدوں کی زنجیر آتے آتے آ جائے گا لکھنے کا انداز حال کا ماتم کرتے کرتے آنکھیں خشک ہوئیں مستقبل کی سوچ رہا ہے ماضی کا نباض خوشیوں کی دھندلی تصویریں رونے کی تمہید اشکوں کی کالی ...

مزید پڑھیے

مصیبت میں بھی غیرت آشنا خاموش رہتی ہے

مصیبت میں بھی غیرت آشنا خاموش رہتی ہے کہ درویشوں کی حاجت تو سدا خاموش رہتی ہے خوشی کا جشن ہو یا ماتم مرگ تمنا ہو یہاں ہر حال میں خلق خدا خاموش رہتی ہے شجر کو وجد آتا ہے نہ تو شاخیں لچکتی ہیں بہاروں میں بھی اب باد صبا خاموش رہتی ہے مری چشم طلب میں خواب کا ہنگامہ خیمہ زن مگر تعبیر ...

مزید پڑھیے

ساعت مرگ مسلسل ہر نفس بھاری ہوئی

ساعت مرگ مسلسل ہر نفس بھاری ہوئی پھر فضائے جاں پہ صدیوں کی تھکن طاری ہوئی خانماں برباد یادیں دستکیں دینے لگیں جب کبھی اپنی طرف بڑھنے کی تیاری ہوئی اس نے اپنے آپ کو ہم پر منور کر دیا پھر بھی چشم شوق میں روشن نہ چنگاری ہوئی اب کسی کی بھی نظر اٹھتی نہیں سوئے فلک ہم زمیں والوں کو ...

مزید پڑھیے

وہی بے سبب سے نشاں ہر طرف

وہی بے سبب سے نشاں ہر طرف وہی نقش صد رائیگاں ہر طرف وہی بے ارادہ سفر سامنے وہی منزلوں کا گماں ہر طرف وہی آگ روشن ہوئی خون میں وہی خواہشوں کا دھواں ہر طرف وہی سب کے سب ڈھیر ہوتے ہوئے وہی تیز آندھی رواں ہر طرف وہی بے گھری ہر طرف خیمہ زن وہی ڈھیر سارے مکاں ہر طرف وہی وقت کی دھوپ ...

مزید پڑھیے

کسی کے واسطے جیتا ہے اب نہ مرتا ہے

کسی کے واسطے جیتا ہے اب نہ مرتا ہے ہر آدمی یہاں اپنا طواف کرتا ہے سب اپنی اپنی نگاہیں سمیٹ لیتے ہیں وہ خوش لباس سر شام جب بکھرتا ہے میں جس کی راہ میں ہر شب دئیے جلاتا ہوں وہ ماہتاب زمیں پر کہاں اترتا ہے ہمارا دل بھی ہے ویراں حویلیوں کی طرح تمام رات یہاں کوئی آہ بھرتا ہے میں اس ...

مزید پڑھیے

اپنی تہذیب کی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں

اپنی تہذیب کی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں میرے بچے مرا گھر بار سنبھالے ہوئے ہیں تو نے کچھ بھی نہ دیا ہم کو اذیت کے سوا زندگی ہم تجھے بے کار سنبھالے ہوئے ہیں کوئی آتا نہیں اب ان کی قدم بوسی کو دونوں ہاتھوں سے وہ دستار سنبھالے ہوئے ہیں وقت سے آگے نکل جائیں گے جب چاہیں گے دل گرفتہ ابھی ...

مزید پڑھیے

چھین لے قوت بینائی خدایا مجھ سے

چھین لے قوت بینائی خدایا مجھ سے دیکھا جاتا نہیں اب تیرا تماشا مجھ سے ایک مدت سے عزا دار علم دار ہوں میں ٹوٹنے والا نہیں پیاس کا رشتہ مجھ سے گھٹتا رہتا ہوں میں ویران حویلی کی طرح بھاگتا پھرتا ہے ہنگامۂ دنیا مجھ سے اب کسی میں بھی یہاں تاب سماعت نہ رہی کوئی سنتا ہی نہیں ہے مرا قصہ ...

مزید پڑھیے

پس غبار طلب خوف جستجو ہے بہت

پس غبار طلب خوف جستجو ہے بہت رفیق راہ مگر ان کی آرزو ہے بہت لرز کے ٹوٹ ہی جائے نہ آج برگ بدن لہو میں قرب کی گرمی رگوں میں لو ہے بہت الجھ گیا ہے وہ خواہش کے جال میں یعنی فریب رنگ ہوس اب کے دو بہ دو ہے بہت کٹا پھٹا سہی ملبوس کہنگی نہ اتار ترے لیے یہی دیوار آبرو ہے بہت مزاج وقت کی ...

مزید پڑھیے

خانہ برباد ہوئے بے در و دیوار رہے

خانہ برباد ہوئے بے در و دیوار رہے پھر بھی ہم ان کی اطاعت میں گرفتار رہے ٹھوکریں کھا کے بھی شائستہ مزاجی نہ گئی فاقہ مستی میں بھی ہم صاحب دستار رہے اپنی صورت سے ہراساں ہے ہر اک شخص یہاں کون اس شہر میں اب آئنہ بردار رہے آتے جاتے ہوئے موسم کو دعا دیتے رہو کم سے کم شاخ تمنا تو ثمر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 131 سے 5858